Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات کی فلم بنانا جائز ہے؟

کیا شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات کی فلم بنانا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  موسیقی /قوالی

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد وڑائچ       مقام: یورپ

سوال نمبر 4102:
السلام علیکم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ کیا شادی کی فلم بناناجائز ہے؟ اس میں لڑکیاں لڑکے اکٹھے ہوتے ہیں اور فلمائے گئے مناظر پر موسیقی بھی شامل کی جاتی ہے، تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب:

شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کی یادیں محفوظ کرنے کے لیے فلم بنانا جائز ہے۔ یہ دورِ حاضر کی یہ ایک سہولت ہے جس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ اگر خاندان کے افراد مہذب انداز میں ویڈیو بنوائیں، لڑکیاں باپردہ ہوں اور نامحرم خواتین و حضرات کا اختلاط نہ ہو تو فلم بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے برعکس اگر فحش لباس زیبِ تن کیے ہوئے مرد و خواتین مخلوط تقریب میں ہوں تو ایسی تقریب کی نہ صرف فلم بنانا غیرشرعی ہے بلکہ ایسی تقریبات میں شریک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے شرعی حدود اور تہذیبی اقدار میں رہتے ہوئے تقریبات کا انعقاد کرنا اور ان کی فلم بنانا جائز ہے۔ اگر کلام فحش نہ ہو تو ان یادگاری فلموں میں موسیقی شامل کرنا بھی جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-01-28


Your Comments