نماز میں نیت کے ظاہری و باطنی آداب کیا ہیں؟

سوال نمبر:410
نماز میں نیت کے ظاہری و باطنی آداب کیا ہیں؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  زکوۃ

جواب:

نماز میں نیت کا ظاہری ادب یہ ہے کہ نمازی جہاں کہی نماز ادا کرنا چاہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے پورے جسم کو قبلہ رخ کر لے اور فرض یا نفل جس نماز کا ارادہ رکھے دل سے اس کی نیت کرے زبان سے نیت کے الفاظ کہنا بہتر ہے خواہ کسی زبان میں ہو تاکہ دل اور زبان دونوں میں موافقت ہو جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’آدمی مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا دل زبان کے ساتھ اور زبان دل کے ساتھ برابر نہ ہو۔‘‘()

منذری، الترغبب والترهيب، 1 : 75، رقم : 223

نیت کے بغیر نماز عام حرکات و سکنات کا مجموعہ تو ہو سکتی ہے لیکن اسے نماز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیت اس قلبی کیفیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جو باطنی ادب، مشاہدہ جمال محبوب اور اس کی حضوری کی تڑپ و لگن سے عبارت ہے اور یہی طالب حق کی آخری منزل ہے۔ یہی اضطراب و بے قراری اس منزل کی طرف عاشق کو سرگرم سفر رکھتی ہے جو اس کا منتہائے مقصود ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟