Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا صدقہ کی رقم قبرستان کے کام میں استعمال کی جاسکتی ہے؟

کیا صدقہ کی رقم قبرستان کے کام میں استعمال کی جاسکتی ہے؟

موضوع: صدقات   |  صدقات واجبہ(صدقہ فطر)   |  صدقات نافلہ

سوال پوچھنے والے کا نام: اظہرالدین پٹیل       مقام: بھروچ (گجرات)

سوال نمبر 4023:
کیا صدقہ کی رقم قبرستان کے کسی کام میں استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب:

شرعِ متین میں صدقات دو طرح کے ہیں: ایک نفلی صدقات ہیں اور دوسرے واجب۔ زکواۃ ، عشر، فطرانہ اور کفارات وغیرہ واجب صدقات ہیں جن کے مصارف اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیان فرما دیے ہیں، یہ صدقات صرف انہیں مصارف پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ البتہ نفلی صدقات کے مصارف بیان نہیں کیے گئے، یہ فلاحی کاموں میں بھی خرچ کیے جاسکتے ہیں اور حاجت مندوں کو بھی دیے جاسکتے ہیں، اسی طرح نفلی صدقات کی رقم قبرستان کے کام میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ.

بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

التَّوْبَة، 9: 60

درج بالا آیتِ مبارکہ میں صدقاتِ واجبہ کا ساتواں مصرف ’فی سبیل اللہ‘ بیان ہوا ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے امام کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

و فی سبيل الله عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه کل من سعیٰ فی طاعة الله تعالیٰ و سبيل الخيرات اذا کان محتاجا.

فی سبیل اللہ سے مراد نیکی کے تمام کام ہیں۔ اس سے میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیک کام کے لیے تگ و دو کرے جبکہ غریب اور حاجتمند ہوں۔

الکاسانی، بدائع الصنائع، 2: 45، بيروت، لبنان، دارالکتاب العربی

اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’فی سبیل اللہ‘ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں فلاحِ عامہ کے کام بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جب پورے علاقے میں ایک بھی شخص قبرستان کا کام کروانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں واجب صدقات ’فی سبیل اللہ‘ کی مد میں قبرستان پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-10-19


Your Comments