Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا عبادت گاہ بنانے کے لیے غیرمسلم کو مکان کرائے پر دینا جائز ہے؟

کیا عبادت گاہ بنانے کے لیے غیرمسلم کو مکان کرائے پر دینا جائز ہے؟

موضوع: خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)   |  شرائط خریدو فروخت

سوال پوچھنے والے کا نام: اسامہ جمیل       مقام: خوشاب

سوال نمبر 4010:
اپنا مکان غیر مسلم کو عبادت خانہ کے استعمال کے طور پہ کرائے پر دینا جائز ہے؟

جواب:

اگر آپ کو معلوم ہے کہ جو شخص آپ سے مکان کرائے پر لے رہا ہے وہ وہاں صنم کدہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے اور مکان میں شرکیہ امور سرانجام دیے جائیں گے تو بہتر ہے اسے مکان نہ دیا جائے۔ کیونکہ یہ برائی کے کام میں تعاون کے مترادف ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

تَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.

نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

الْمَآئِدَة، 5: 2

اس کے برعکس اگر ایسا غیرمسلم جو اہلِ اسلام سے حالتِ جنگ میں نہ ہو اسے رہائش کے لیے مکان کرائے پر دیا جاسکتا ہے۔ رہائش اختیار کرنے کے بعد اگر غیرمسلم وہاں کوئی غیرشرعی کام کرتا ہے تو مالکِ مکان کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ فقہ حنفی کے عالی مرتبت امام شمس الدین سرخسی فرماتے ہیں:

لاباس بان يواجر المسلم دار امن الذمي ليسکنها فان شرب فيها الخمرء و عبد فيها الصليب او دخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم اثم في شئي من ذالک لانه لم يواجر لذلک و المعصية في فعل المستاجر و فعله دون قصد رب الدار فلا اثم علي رب الدار في ذالک.

مسلمان کے ذمی کو مکان رہائش کے لیے دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، پھر اگر وہ اس میں شراب پیئے، صلیب کی پرستش کرے یا سور داخل کرے تو مسلمان کو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ مسلمان نے اس مکان اس مقصد کے لیے نہیں دیا۔ یہ عمل کرایہ دار کا ہے جس میں مالکِ مکان کا ارادہ شامل نہیں اس لیے وہ گناہگار نہیں ہے۔

  1. سرخسی، المبسوط، 16: 39، دارالمعرفة، بيروت
  2. الشيخ نظام و جماعة من علماء الهنديه، الفتاویٰ الهنديه، 4: 450، دارالفکر، بيروت

اس مسئلے پر امام مرغینانی نے اپنی رائے دیتے ہوئے فرمایا ہے:

و من آجر بيتاً ليتخذ فيه بيت بار او کنيسة او بيعة او يباع فيه الخمر بالسواد فلا باس به.

اگر کوئی مکان کرایہ پر دے اور کرایہ دار اس میں بت خانہ، کلیسا یا شراب خانہ بنا لے تو اس مکان دینے والے پر گناہ نہیں ہے۔

مرغيناني، الهداية، 4: 130، المکتبة الاسلاميه

لہٰذا غیرمسلم کو رہائش کے لیے مکان کرایہ پر دینا جائز ہے، لیکن کسی غیرشرعی، کفریہ اور شرکیہ مقصد کے لیے مکان، دکان اور پلاٹ وغیرہ دینا جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-09-11


Your Comments