Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - نقد رقم پر زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نصابِ‌ شرعی سونے کو شمار کیا جائے یا چاندی کو؟

نقد رقم پر زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نصابِ‌ شرعی سونے کو شمار کیا جائے یا چاندی کو؟

موضوع: زکوۃ  |  نصاب زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد بدرالزمان       مقام: نیو دہلی

سوال نمبر 4003:
السلام علیکم! شریعت میں ساڑھے سات تولے سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ عملی طور چاندی کی قیمت بیالیس ہزار جبکہ سونے کی قیمت اڑھائی لاکھ بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نصابِ‌ شرعی سونے کو شمار کیا جائے گا یا چاندی کو؟ قربانی کے لیے صاحبِ نصاب کون ہے؟

جواب:

جس دور میں سونے اور چاندی کو زکوٰۃ کا نصاب بنایا گیا اس وقت ساڑھے سات تولے (87.48 گرام) سونے اور ساڑھے باون تولے (612.41گرام) چاندی کی قدر تقریباً برابر تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوتی گئی۔ ایک عرصہ تک سونے کی طرح چاندی بھی اصل زر اور زرِ ضمانت کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

دورِ حاضر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق آ گیا ہے اور چاندی بطور زر یا زرِ ضمانت کے طور پر بھی مستعمل نہیں ہے، صرف سونا ہی زرِ ضمانت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ لہٰذا عصر حاضر میں چاندی کے علاوہ نقدی یا مال ودولت کا نصاب سونے کی قیمت کے مطابق بنایا جائے گا۔ اگر کسی کے پاس کچھ سونا کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہے اور سب کو ملا کر ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔ قربانی بھی اُسی پر واجب قرار دی جائے گی جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے برابر مالیت کی نقدی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-12-28


Your Comments