Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ساس یا سسر کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

کیا ساس یا سسر کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

موضوع: زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمود امجد       مقام: ملتان، پاکستان

سوال نمبر 3963:
کیا ساس یا سسر کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب:

ساس یا سسر کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ صرف والدین اور اولاد کو زکوٰۃ دینے کی ممانعت ہے۔ امام کاسانی فرماتے ہیں:

ويجوز دفع الزکاة إلی من سوی الوالدين والمولودين من الاقارب ومن الإخوة والااخوات وغيرهم.

رشتہ داروں میں سے والدین اور اولاد کے علاوہ سب کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، بھائی بہن وغیرہ کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔‘‘

علاؤ الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 2: 50، بيروت: دار الکتاب العربي

اگر ساس اور سسر حقدار ہوں تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-06-25


Your Comments