Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - اگر سسر بہو کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو اس کے بیٹے کے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

اگر سسر بہو کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو اس کے بیٹے کے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

موضوع: حرمت مصاہرت   |  زنا و بدکاری

سوال پوچھنے والے کا نام: برہان حفیظ       مقام: لاہور

سوال نمبر 3935:
اگر کسی عورت کا سُسر اُس کے جسم کے کسی حصے کو بدنیتی سے چھوئے، اسے اکیلے پا کر اس کے بدعملی کے ارادے سے اس کے قریب ہو، مزید یہ کہ وہ اُس سے اکثر یہ بات کہتا ہو کہ تم بہت پیاری ہو میرا بیٹا تمہارے قابل نہیں۔ بعد میں وہ اس حرکت سے انکاری ہو جاتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ایسی صورت میں‌ بہو کا نکاح باقی رہتا ہے یا وہ اپنے شوھر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے؟

جواب:

آئمہ احناف کے نزدیک اگر سسر، بہو کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو وہ اس کے بیٹے کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔

اگر بہو بھی سسر کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اور یہ سارا عمل اس کی رضامندی سے ہو رہا ہے تو اس کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اسے الگ کر دے۔ لیکن اگر اس میں بہو کی رضامندی شامل نہیں ہے تو اسے سسر سے الگ مکان میں رکھا جائے تاکہ آئندہ ایسے صورت حال پیش نہ آئے اور رشتوں کا تقدس قائم رہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

اگر سسر بہو سے اظہارِ خلوت کرے تو بیٹے کے نکاح‌ کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-06-16


Your Comments