Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک میں‌ رکھے ہوئے سرمائے کے صرف منافع پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟

کیا بینک میں‌ رکھے ہوئے سرمائے کے صرف منافع پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟

موضوع: زکوۃ  |  نصاب زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: عابد علی       مقام: کراچی

سوال نمبر 3934:
السلام علیکم! اگر کوئی شخص کسی اسلامک بینک میں 5 لاکھ سرمایہ رکھے اور اس پر ملنے والے نفع پر زکوٰۃ ادا کرے تو کیا یہ جائز ہے؟ یا اسے 5 لاکھ پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟ جیسے مکان کی مالیت کی بجائے اس سے کرائے کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن پر زکوٰۃ دی جاتی ہے، کیا سرمائے کا بھی یہی حکم ہے؟

جواب:

پلاٹ، مکان، دکان، مشینری اور گاڑی وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدنی یا ان کی فروخت سے ملنے والی رقم پر زکوٰۃ ادا کیا جائے گی۔ تاہم سونا، چاندی، مالِ تجارت، خام یا تیار مال کی مالیت اور نقدی پر زکوٰۃ لازم ہے۔ اس لیے آپ بینک میں رکھی ہوئی رقم کے نہ صرف منافع بلکہ اصل رقم (جو آپ کے بقول 5 لاکھ ہے) پر بھی زکوٰۃ ادا کریں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-07-22


Your Comments