نماز کو دین کا ستون کیوں کہا گیا ہے؟

سوال نمبر:389
نماز کو دین کا ستون کیوں کہا گیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات

جواب:

نماز کو دین کا ستون کہا گیا ہے، حدیثِ مبارکہ میں ہے :

اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ، فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ هَدَمَ الدِّيْنَ.

عجلونی، کشف الخفاء، 2 : 40

’’نماز دین کا ستون ہے جس نے اس کو ترک کیا پس اس نے پورے دین کو منہدم کیا۔‘‘

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کو دین کا مرکزی ستون قرار دیا ہے جس طرح کوئی عمارت بغیر ستون کے قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح دین کی عمارت اقامتِ صلوۃ کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ دین کی عمارت کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ نماز قائم کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟