کیا شرع کی رُو سے نومولود کے کانوں میں اذان دینا جائز ہے؟

سوال نمبر:387
کیا شرع کی رُو سے نومولود کے کانوں میں اذان دینا جائز ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات

جواب:

جی ہاں! شرع کی رُو سے نومُولود کے کانوں میں اذان دینا جائز اور مسنون عمل ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے :

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما کے کان میں نماز جیسی اذان کہتے ہوئے سنا ہے۔‘‘

ابوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الصبی يولد فيؤذن فی أذنه، 4 : 328، رقم : 5105

بچوں کو اِسلامی تعلیمات سے شناسا کرنے اور اُنہیں اِسلامی آدابِ زندگی سکھانا ماں باپ کا فرض اَوّلین ہے۔ بچے کے کان میں اذان کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک تو بچے کے کان میں سب سے پہلے ذکر اِلٰہی کی آواز پہنچتی ہے، دوسرا اذان سے شیطان بھاگتا ہے اور بچہ شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ گویا جب نومولود اذان کی صورت میں عشق اِلٰہی کا ترانہ سنتا ہے تو پیدائش کے وقت سے ہی اس آفاقی حکم سے مانوس ہوجاتا ہے جو زندگیوں میں انقلاب لانے کے لئے بھیجا گیا۔

بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اِقامت کہی جاتی ہے۔ اِس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اذان نہ صرف بچے بلکہ اس کی ماں کے لیے بھی برکت کا باعث بنتی ہے۔

امام حسین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو تو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اِقامت کہے، اس کی برکت سے بچے کی ماں کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔‘‘

ابو یعلی، المسند، 12 : 150، رقم : 6780

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟