Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا گروپ چیٹ کے دوران ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے؟

کیا گروپ چیٹ کے دوران ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  نکاح   |  شہادت(گواہی)

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد رفیق       مقام: جوہرآباد، ضلع خوشاب

سوال نمبر 3808:

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ فیس بک پر چیٹنگ کے دوران اگر ایک فریق کہے کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں کیا تمہیں قبول ہے؟ دوسرا فریق بولے: ہاں قبول ہے۔ اسی طرح تین دفعہ پوچھا جائے اور تین دفعہ ہی جواباََ قبول ہے بولا جائے اور پھر دوسرا فریق بھی تین مرتبہ پوچھے اور پہلا فریق تین مرتبہ قبول ہے بولے۔ واضح رہے کہ یہاں نہ تو گواہان موجود ہیں اور نہ تو خطبہ ہی پڑھا گیا ہے۔ ایسے ایجاب و قبول کی کیا شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح سے نکاح واقع ہو گیا؟

کچھ لوگ اس طرح سے نکاح نہ ہونے کا فتوی دے رہے ہیں جبکہ کچھ ہو جانے کی بات کر ر ہے ہیں۔ ایک صاحب سے یہ رائے ملی ہے کہ نکاح کی ایک شرط پوری ہو چکی اب دوسری شرط گواہان کی پوری کر لیں تو ایجاب و قبول کی دوبارہ ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ایک ہی دفعہ ہو چکا جو کافی ہے اور ساتھ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ خطبہ سنت ہے جو کہ لازمی تو ہے لیکن شرط نہیں ہے، لہذا نکاح واقع ہو چکا ہے۔ بہت کنفیوژن ہے، براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

نیز یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ کیا ان لوگوں کی گواہی قابلِ قبول ہے جو بوقتِ ایجاب و قبول کانفرنس کال (یعنی ایک ہی فون کال میں متعدد لوگ موجود ہوں) یا گروپ چیٹ (ایک ہی پلیٹ فارم پر متعدد لوگ بذریعہ ٹیکسٹ چیٹنگ) موجود ہوں۔

جواب:

صحتِ نکاح کے لیے دو مَردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے حق مہر کے عوض ایجاب و قبول کا ہونا شرط ہے، ورنہ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ گواہوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عاقل، بالغ اور مسلمان ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ یہ تقریب کس مقصد کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایجاب و قبول مجلسِ عقد (نکاح کی مجلس) میں گواہوں کے سامنے ہونا چاہیے۔ کانفرنس کال اور گروپ چیٹ، مجلسِ نکاح کی ہی جدید شکل ہے۔ اگر کال کے شرکاء اورگروپ کے ممبران کے حاضرین کو معلوم تھا کہ فلاں لڑکے کا فلاں لڑکی سے نکاح ہو رہا ہے تو نکاح ہوگیا۔

اگر نکاح میں گواہوں کی شرط نہ رکھی جاتی تو ہر زنا کرنے والا جوڑا بھی بعد میں کہہ دے کہ ہم نے تو نکاح کر رکھا ہے۔ اگر گواہوں کی شرط نہ ہو تو کتنے ہی لوگ آپس میں نکاح کر کے عورتوں کو استعمال کرکے چھوڑ دیں اور بعد میں نکاح کا ہی انکار کر دیں۔ دیگر معاملات میں بھی جہاں جہاں گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے وہ کوئی بے معنی نہیں ہے، اگر گواہ اسلام کی بیان کردہ شرائط کے مطابق ہوں توگواہی سے مشروط کرنے کی وجہ سے معاشرہ بہت سے فسادات سے بچ سکتا ہے۔

بذریعہ انٹرنیٹ نکاح کے لیے جس فریق کی طرف گواہان بیٹھے ہوں وہاں دوسرے فریق کا وکیل ہونا بھی ضروری ہے۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی تفصیلات جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

ٹیلی فون یا انٹرنیٹ پر نکاح‌ منعقد ہونے کی کیا شرائط ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-19


Your Comments