Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟

انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  متفرق مسائل  |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: وسعت اللہ رفیق       مقام: سیالکوٹ، پاکستان

سوال نمبر 3805:
اسلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ بنک میں‌ یا انشورنس کمپنی میں‌ جاب کرنا کیسا ہے؟ کیونکہ سود کے متعلق حدیث مبارکہ میں‌ چار اشخاص پر لعنت فرمائی گئی ہے: سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سود کا گواہ بننے والے پر اور سود لکھنے والے پر۔ اس حدیث مبارکہ کی بنا پر چند علماء و مفتیان کرام بنک یا انشورنس کمپنی میں‌ جاب کو متعلقاً حرام جانتے اور کہتے ہیں (کیونکہ عموماً ان دونوں کمپنیوں میں‌ سود کا لین دین موجود ہے)۔ اس بارے میں‌ ارشاد فرمائیے۔ جزاک اللہ والسلام

جواب:

مضاربت، مشارکہ، اجارہ، مرابحہ، استصناع وغیرہ کے اصولوں پر کام کرنے والی انشورنس کمپنیوں، بینکوں اور اداروں میں جن میں سودی لین دین نہیں ہوتا ان میں ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم مکمل طور پر سودی لین دین کرنے والے یا سودی شعبہ جات رکھنے والے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں سود لکھنے، گواہی دینے یا کام کرنے والے ملازمین کوشش کریں کہ اپنی ذمہ داریاں ان بینکوں یا شعبہ جات میں لگوا لیں جو کسی حد تک غیرسودی ہیں یا ہونے کا تاثر دیتے ہیں، یا پھر متبادل ملازمت تلاش کرلیں۔ لیکن جب تک کوئی دوسری ملازمت یا غیرسودی شعبہ نہیں ملتا تب تک موجودہ ملازمت کو اضطراری یا مجبوری کی صورت میں جاری رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ ملازمت چھوڑ کر بیروزگار ہوجائیں اور کہیں اس سے بھی بڑا حرام کھانے پر مجبور ہو جائیں۔ نئی ملازمت کی تلاش میں جتنا عرصہ لگے، سودی لین دین سے نفرت اور اس کے خاتمے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ لہٰذا الجھن کا شکار ہونے کی بجائے متبادل ملازمت کی کوشش کریں۔ جب کوشش اخلاص کے ساتھ ہوگی تو اللہ پاک مدد بھی فرمائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-16


Your Comments