Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - دارالحرب اور دارالکفر میں کیا فرق ہے؟

دارالحرب اور دارالکفر میں کیا فرق ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: مبشرحسین چشتی       مقام: اسلام آباد

سوال نمبر 3779:
دارالحرب اور دارالکفر میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اگر فرق ہے تو احکام کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب:

فقہائے اسلام نے قوانین کے نفاذ کے اعتبار سے حکومتوں اور ممالک کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:

  1. دار الاسلام
  2. دار الکفر

دار الاسلام اس ملک کو کہتے ہیں جہاں دستوری طور پر اسلامی قوانین اور احکام نافذ ہوں، شعائرِ اسلامی کا غلبہ ہو اور اس ملک کے قائدین و حکام مسلمان ہوں۔

دار الکفر اس مملکت کو کہا جاتا ہے جہاں دستور اور حکومت غیرمسلموں کی ہو اور اس کے قائدین و حکام بھی غیرمسلم ہوں۔

وجود امن (حالت امن) اور عدم امن (حالت جنگ) کے اعتبار سے دارالکفر دو طرح کے ہیں: دارالحرب اور دارالامن یا دار العہد۔

دار الحرب:

ایسا غیرمسلم ملک جس کی حکومت مسلمانوں کے ساتھ برسرِپیکار ہو، ان کے مال و املاک اور ان کی جان کو ختم کرنے یا نقصان پہنچانے کے درپے ہو، اور وہاں اسلامی دعوت کو ممنوع قرار دیا گیا ہو، اس کوملک کو ”دارالحرب“ کہا جاتا ہے۔ الشیخ سعید ابوحبیب القاموس الفقہی میں دار الحرب کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

دارالحرب: بلاد الکفار الذين لاصلح لهم مع المسلمين

دارالحرب سے مراد ایسے غیرمسلم ممالک ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ ہرگز صلح نہ ہو (بلکہ حالتِ جنگ میں ہوں)

ابوحبيب، القاموس الفقهی، 84

ہر دارالکفر، دارالحرب نہیں ہوتا، دارالحرب ہونا ایک استثنائی صورت ہے۔ ایسے غیرمسلم ممالک جن سے مسلمانوں کے سفارتی تعلقات ہوں، تجارتی اور دیگر انواع کےمعاہدات ہوں، ایک دوسرے کے ممالک میں آنا جانا ہو، وہاں مقیم مسلمانوں کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو اور مسلمانوں کو وہاں اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کی آزادی ہو تو ایسے ممالک دارالحرب نہیں ہوتے۔ دارالحرب کی تعریف اس ملک پرصادق آتی ہے جس ملک سے مسلمان عملاً برسرجنگ ہوں، اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ ہوں اور وہاں کسی مسلمان کی اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان مال وعزت محفوظ نہ ہو۔

دارالامن یا دار العہد:

ایسا ملک جس کی حکومت اور نظام و انصرام غیرمسلموں کے ہاتھ میں ہو، مگر وہ مسلمانوں کے ساتھ امن کا معاہدہ کر چکی ہو اور وہاں مسلمانوں کو شعائراسلام بجا لانے کی آزادی ہو، اُسے دارالامن یا دار العہد کہتے ہیں۔ دورِ حاضر میں اقوامِ متّحدہ (UNO) کے رکن ممالک جنہوں نے بین الاقوامی معاہدہ امن (International Treaty of Peace) پر دستخط کر رکھے اور اور اس کے پاسدار ہیں، وہ اسی حکم میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دارالحرب کا دارالکفر ہونا ضروری ہے، تاہم ہر دارالکفر کا دارالحرب ہونا ضروری نہیں۔ ایسا دارالکفر جس میں مسلمانوں کو جان و مال اور دین و فکر کا تحفظ اور آزادی حاصل ہو، وہ دارالحرب نہیں ہے۔

دارالاسلام، دارالکفر، دارالحرب اور دارلامن کی مزید وضاحت اور مکمل احکام جاننے کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاالقادری کی تصنیف ’اسلام اور اہلِ کتاب‘ کا مطالعہ کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments