کیا حضرت ابو ہریرہ واقعہ کربلا سے پہلے وفات پا گئے تھے؟

سوال نمبر:3770
السلام علیکم! ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب سیرت الرسول جلد 6 میں لکھا ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھایا۔ جبکہ ان کی دوسری کتاب ’شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ‘ میں‌ لکھا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واقعہ کربلا سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان میں سے کونسا بیان درست ہے؟

  • سائل: عمران سعیدمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 30 جنوری 2016ء

زمرہ: اسلامی تاریخ

جواب:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں تین اقوال اکثر کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات 57 ہجری میں ہوئی۔ دوسرے قول کے مطابق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سنِ وفات 58 ہجری ہے۔ جو قول اکثر سیرت نگاروں، تاریخ دانوں اور محدثین کے ہاں مقبول ہے اس کے مطابق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا سال 59 ہجری ہے۔

  1. حاکم، المستدرک علیٰ صحيحين، 3: 581، رقم: 6157، دارالکتب العلمية، بيروت، لبنان
  2. ابنِ عساکر، تاريخ مدينة و دمشق، 67: 390-391، دارالفکر، بيروت، لبنان
  3. عسقلانی، الاصابة في تمييز الصحابة، 7: 444، دارالجليل، بيروت، لبنان

علامہ ابن عبدالبر، امام مزی اور امام ابنِ کثیر وغیرہم نے بھی یہی تین اقوال نقل کیے ہیں۔

ام المؤمنین سیدہ ام مسلمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بارے میں بھی مختلف اقوال بیان ہوئے ہیں، مگر رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشن گوئی کے پیشِ نظر آپ رضی اللہ عنہا کی وفات کا سال 61 ہجری ہے۔ ابنِ عساکر، کلاباذی، نووی اور امام ابنِ سعد نے بھی سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا سال 61 ہجری کو ہی قرار دیا ہے۔

  1. ابنِ عساکر، تاريخ مدينة و دمشق، 3: 211، دارالفکر، بيروت، لبنان
  2. ابنِ سعد، طبقات الکبریٰ، 8: 95، دارِ صادر، بيروت، لبنان

مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ سیدنا حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی وفات واقعہ کربلا کے رونماء ہونے سے ایک سال قبل 59 ہجری میں ہوئی اور سیدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی وفات واقعہ کربلا سے ایک سال بعد 61 ہجری میں ہوئی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟