Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - فجر کی سنتیں ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

فجر کی سنتیں ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: نماز  |  فجر   |  نماز کی سنتیں   |  با جماعت نماز کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: عامر       مقام: جعفرآباد، بلوچستان

سوال نمبر 3762:
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کے اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہے تو وہ پہلے فرض رکعت پڑھےگا یا سنت؟ مثلاً فجر کی نماز میں وہ شخص فرض پہلے پڑھے گا یا سنت؟

جواب:

جو شخص اکیلا نماز ادا کر رہا ہو وہ فرائض، سنن اور نوافل کی ترتیب کو قائم رکھے گا۔ اگر باجماعت نماز شروع ہو جائے تو پہلے سنتیں ادا کرنے کی بجائے جماعت کے ساتھ شامل ہو جانا چاہیے اور سنتیں، فرائض کے بعد ادا کر لینی چاہئیں۔ اگر کوئی شخص فجر کی سنتیں دورانِ جماعت ادا کر کے جماعت میں شامل ہو سکتا ہے تو پہلے ادا کرلے،اور اگر رہ جائیں تو سورج کے طلوع ہونے کے بعد ادا کر لے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:

عن ابی هريرة رضي الله عنه عن النبي صلیٰ الله عليه وآله وسلم قال: من لم يصل رکعتي الفجر حتیٰ تطلع الشمس فليصلها.

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو فجر کی دو رکعت کو ادا نہ کر سکے وہ طلوعِ فجر کے بعد ادا کر لے۔

حاکم، المستدرک علیٰ الصحيحين، 1: 408، رقم: 1015، دارالکتب العلمية، بيروت، لبنان

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-01-30


Your Comments