Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا امام احمد بن حنبل نے یزید کے کفر کا فتویٰ دیا ہے؟

کیا امام احمد بن حنبل نے یزید کے کفر کا فتویٰ دیا ہے؟

موضوع: عقائد

سوال پوچھنے والے کا نام: علی فرحان       مقام: ایم۔ اے۔ جناح یونیورسٹی، اسلام آباد

سوال نمبر 3760:
کیا امام احمد بن حنبل نے یزید بن معاویہ کے کفر کا فتویٰ دیا ہے؟ اس کا حوالہ کیا ہے؟

جواب:

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے نے ان سے یزید کے بارے میں سوال کیا تو آپ رحمۃ اللہ علہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

يا بنی و هل يتولیٰ يزيد احمد يومن بالله ولم لايلعن من لعنة الله في کتابه. فقلت و اين لعن الله يزيد في کتابه فقال في قوله تعالیٰ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْo أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْo [سورة محمد، 47: 22-23] فهل يکون فساد اعظم من القتل؟

 میرے بیٹے کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرے اور پھر یزید سے بھی دوستی رکھے اور ایسے شخص پر میں (احمد بن حنبل) لعنت کیوں نہ کروں جس پر قرآن میں اللہ نے خود لعنت کی ہو۔ فرزند نے عرض کیا: قرآن میں کس جگہ اس پر لعنت ہوئی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے اس فرمان میں [پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔] کیا قتلِ (امام حسین علیہ السلام) سے بڑھکر بھی کوئی فساد ہو سکتا تھا؟

أحمد بن محمد بن علی بن حجر الهيثمی، الصواعق المحرقة علی أهل الرفض و الضلال و الزندقة، 2: 635، بيروت، لبنان: مؤسسة الرسالة

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے اس فتویٰ کو ابنِ تیمیہ نے منہاج السنۃ النبویۃ میں، مقدسی نے الآداب الشرعیۃ میں، البرزنجی نے الاشاعۃ میں، علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اور آئمہ، علماء و مفسرین کی بڑی تعداد نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-04


Your Comments