Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کلمہ طیبہ میں الفاظ کا اضافہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

کلمہ طیبہ میں الفاظ کا اضافہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: عقائد

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد شفیق قادری       مقام: پاکستان ظفروال

سوال نمبر 3741:
اگر کوئی شخص ’لاالہ الااللّہ محمد رسول اللّٰہ و علی ولی اللّٰہ‘ کو کلمہ سمجھ کر پڑھے تو اُس کا یہ عمل کیسا ہے؟

جواب:

کلمہ طیبہ قرآنِ مجید کی دو آیات سے ماخوذ ہے، جس کی تفصیلات کیا قرآن مجید میں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا بیان نہیں ہے؟ کے جواب میں بیان کی جاچکی ہیں۔ جب کسی شخص کو مسلمان کرنا ہوتا تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسے درج ذیل کلمات پڑھواتے:

اَشُهَدُ اَنُ لاٰ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحُدَهُ لاٰ شَرِيکَ لَهُ وَ اَشُهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبُدُهُ وَ رَسُوُلُهُ.

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔

لہٰذا کلمہ طیبہ وہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ حضورِ اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بندگی و رسالت کا اقرار کیا جائے۔ اگر کلمہ طیبہ میں اضافہ کیا جائے اور اس اضافے کو کلمہ طیبہ کا جزو مانا جائے تو یہ بدعتِ سئیہ ہے۔ ایسا کرنا امت میں انتشار کا باعث ہونے کے سبب ممنوع ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-10-30


Your Comments