Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا بیوی کی موجودگی میں اس کی بھانجی سے نکاح‌ جائز ہے؟

کیا بیوی کی موجودگی میں اس کی بھانجی سے نکاح‌ جائز ہے؟

موضوع: نکاح   |  محرمات نکاح

سوال نمبر 3719:
میری بیوی کی بہن کی بیٹی بیوہ ہو گئی ہے۔ کیا میں اُس سے نکاح کر سکتا ہوں؟ جبکہ میری بیوی ابھی میرے نکاح میں ہے۔

جواب:

احادیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ  اَنَّ رَسُولَ اﷲِ قَالَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْاَةِ وَخَالَتِهَا.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص عورت اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ (یعنی بیک وقت ایک نکاح میں) جمع نہ کرے۔‘‘

  1. بخاري، الصحيح، 5: 1965، رقم: 4820، دار ابن کثير اليمامة بيروت
  2. مسلم، الصحيح، 2: 1028، رقم: 1408، دار احياء التراث العربي بيروت
  3. احمد بن حنبل، المسند، 2: 462، رقم: 9953، موسسة قرطبة مصر
  4. ابي داؤد، السنن، 2: 224، رقم: 2066، دار الفکر

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ لَا تُنْکَحُ الْمَرْةُ عَلَی عَمَّتِهَا وَلَا الْعَمَّةُ عَلَی بِنْتِ اَخِيهَا وَلَا الْمَرْاَةُ عَلَی خَالَتِهَا وَلَا الْخَالَةُ عَلَی بِنْتِ اُخْتِهَا وَلَا تُنْکَحُ الْکُبْرَی عَلَی الصُّغْرَی وَلَا الصُّغْرَی عَلَی الْکُبْرَی

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنی پھوپھی پر نکاح نہ کروائے اور نہ پھوپھی بھتیجی پر اور نہ کوئی اپنی خالہ پر اور نہ خالہ بھانجی پر۔ نہ بڑے رشتے والی چھوٹے رشتے والی پر اور نہ چھوٹے رشتے والی بڑے رشتے والی پر نکاح کروائے‘‘۔

  1. احمد بن حنبل، المسند، 2: 426، رقم: 9496
  2. ابو داود، السنن، 2: 224، رقم: 2065
  3. دارمي، السنن، 2: 183، رقم: 2178، دار الکتاب العربي بيروت
  4. ابن حبان، الصحيح، 9: 427، رقم: 4118، موسسة الرسالة بيروت
  5. طبراني، المعجم الاوسط، 4: 382، رقم: 4493، دار الحرمين القاهرة

عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ يَنْهَی عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ نِکَاحَيْنِ سَمِعْتُهُ يَنْهَی عَنِ الصَّلَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْاَضْحَی وَاَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْاَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْاَةِ وَعَمَّتِهَا

’’حضرت سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو دن کے روزہ، دو نمازوں اور دو نکاحوں سے منع کرتے سنا۔ میں نے سنا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرماتے تھے: نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج ـ غروب ہونے تک نماز (نفل) سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے دو دنوں کے روزہ سے اور بھانجی و خالہ اور بھتیجی وپھوپھی کو نکاح میں جمع کرنے سے۔‘‘

  1. احمد بن حنبل، المسند، 3: 67، رقم: 11655
  2. ابن ماجه، السنن، 1: 621، رقم: 1930، دار الفکر بيروت
  3. ابو يعلی، المسند، 2: 456، رقم: 1268، دار المامون للتراث دمشق

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص بیک وقت پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو اپنے نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-09-15


Your Comments