Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا خواتین بالوں‌ کا عطیہ دے سکتی ہیں؟

کیا خواتین بالوں‌ کا عطیہ دے سکتی ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: سدرہ فاروق       مقام: کراچی پاکستان

سوال نمبر 3697:
کیا عورتیں بالوں کی مخصوص لمبائی کا عطیہ دے سکتی ہیں؟ کیا کینسر کے مریض عورتیں اصلی بالوں سے بنی وگز استعمال کر سکتی ہیں؟ وہ خواتین جو بیماری کی وجہ سے اپنے بال کھو چکی ہیں؟ کیا عورتیں عطیہ کی نیت سے بال کٹوا سکتی ہیں؟

جواب:

جن خواتین کے بال بیماری کی وجہ گِر جاتے ہیں، ان کے لیے اصلی بالوں سے بنی وگز استعمال کرنا جائز ہے۔ اسی طرح وہ خواتین جن کے بالوں کی لمبائی زیادہ ہو وہ مشروط طور پر ایک مخصوص لمبائی کا عطیہ دے سکتی ہیں۔ بالوں کا عطیہ کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ بال اتنے چھوٹے نہ کیے جائیں کہ مَردوں سے مشابہت پیدا ہوجائے، اور دوسری شرط ہے کہ بال مخصوص ضرورت مند عورت کو دیے جائیں، بیچنا منع ہے۔ یہ عطیہ باامرِ مجبوری جائز ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ حدیث مبارکہ میں وگ لگانے والوں پر لعنت کی گئی۔ یہ ان خواتین و حضرات کے بارے میں ہے جو بال ہونے کے باوجود بغیر کسی وجہ کے وگز لگانے کو عادت بنا لیتے ہیں۔ اس کا سبب غیرمعمولی فیشن کی حوصلہ شکنی ہے، تاکہ فضول خرچیوں کا راستہ بند ہو اور معاشرے اعتدال پسندی کی طرف بڑھے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-10-23


Your Comments