Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک کا سیونگ پلان جائز ہے؟

کیا بینک کا سیونگ پلان جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  PLS اکاؤنٹ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد سلیم       مقام: الہ آباد

سوال نمبر 3677:
بنکوں میں جو سالانہ اور کم از کم 5 سالہ بنیاد پر سیونگ پلان حاصل کیا جاتا ہے۔ جس میں بنک کو پانچ سال میں اگر آپ 10 لاکھ دیں تو وہ پانچ سال کے بعد آپ کو 20 لاکھ واپس کرتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے کہ نہیں؟ حالانکہ اگر آپ سیونگ پلان نہیں لیتے تو پھر بھی آپ کی وہی رقم بنک استعمال کرتا رہتا ہے اور اس کا آپ کو پرافٹ بھی نہیں ملتا۔‎

جواب:

اگر بینک نفع و نقصان کی شراکت پر رقم جمع کرے اور مقررہ مدت کے بعد نفع و نقصان فریقین میں تقسیم ہو جائے، تو سیونگ پلان جائز ہے۔

اس کے برعکس اگر نفع پہلے سے ہی طے کر لیا جائے تو یہ سود ہے جو کہ سراسر ناجائز ہے۔

مسئلہ مسؤلہ میں دس (10) لاکھ جمع کرواتے ہی معاہدہ طے پا گیا کہ بینک کو خواہ نفع زیادہ ہو یا نقصان ہوجائے ہر حال میں آپ کو پانچ (5) سال بعد دس (10) لاکھ کے ساتھ دس (10) لاکھ مل جائے گا، تو یہ ناجائز ہے۔ ایسا سیونگ پلان جائز نہیں۔

سیونگ پلان صرف وہی جائز ہے جس میں نفع و نقصان کی شراکت کی شرط ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-07-28


Your Comments