غیرسُنی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3663
السلام علیکم! میں گلف میں ملازمت کے سلسلے میں جا رہا ہوں۔ پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ وہاں اگر ہمارے عقیدے کے موافق امام نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا الگ؟

  • سائل: محمد ریحانمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 12 جون 2015ء

زمرہ: امامت   |  شرائط امامت

جواب:

اگر کسی شخص نے آپ کے سامنے گستاخی یا بدعقیدگی کا اظہار نہیں کیا یا کوئی شخص سرِعام اور کھلے بندوں گستاخانہ گفتگو نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ شک کی بنیاد پر کسی کو گستاخ یا بدعقائدہ سمجھنا اور اس کی اقتداء میں باجماعت نماز پڑھنے کی بجائے الگ نماز ادا کرنا درست نہیں۔ اگر وہ امام آپ کے سامنے یا کھلےعام عمداً اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام، اہلِ بیتِ اطہار یا اولیائےاللہ کی گستاخی کا مرتکب ہو تو پھر اس کی اقتداء کی بجائے الگ نماز پڑھ لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟