کیا کسی شخص کو مسجد میں آنے سے روکا جاسکتا ہے؟

سوال نمبر:3658
السلام علیکم! مفتی صاحب میرے دو سوال ہیں: ایک یہ کہ کیا ہم وہابی، دیوبندی اور بدمذہبوں کو سنی مسجد میں آنے سے روک سکتے ہیں؟ اگر روک سکتے ہیں تو اس کی دلیل کیا ہے اور اگر نہیں روک سکتے ہیں تو اس کی دلیل کیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر وہابی، دیوبندی اور بدمذہب سنی مسجد میں آکر پائیچے موڑ کر نماز پڑھے تو کیا حالتِ نماز میں اس کے پائینچے سیدھے کرسکتے ہیں کیا؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں

  • سائل: قاضی شجاعت اللہ فاروقیمقام: بھارت
  • تاریخ اشاعت: 16 جون 2015ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

کسی بھی کلمہ گو مسلمان کو مسجد میں آنے سے نہیں روکا جاسکتا، جب تک کہ اس سے کسی فتنہ کا خدشہ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص مسجد میں اتحاد کی بجائے انتشار کی کوشش کرے اور تکفیری ذہنیت کے ساتھ اہلِ اسلام کو دائرہ اسلام سے خارج کرے تو ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے اس بنا پر روکا جاسکتا ہے کہ اس نے انتشار پھیلانے کی کوشش کر کے قرآن و حدیث کے حکم کی خلاف ورزی کی اور یہ کہ اس سے فساد کا خطرہ ہے۔

دورانِ نماز کسی کو تنگ کرنے کی بجائے نماز سے پہلے یا بعد میں دی جانے والی تعلیم زیادہ مؤثر ہے۔ نماز میں ٹخنوں کی کیفیت کے بارے میں‌ وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا نماز کی حالت میں ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟