Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سرمایہ کاری کی جائز صورتیں کونسی ہیں؟

سرمایہ کاری کی جائز صورتیں کونسی ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  مضاربت   |  مضاربت کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد صدیق       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 3639:
السلام علیکم! گزارش ہے کہ میں سیلز مارکیٹنگ کا کام کرتا ہوں، جس میں کچھ کمپنیز کے آئٹمز فرخت کرنا ہوتے ہیں۔ کچھ دوست میرے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ میں مکمل غیرسودی معاہدہ کرنے کا خواہاں ہوں۔ اس سلسلے میں آپ کی راہنمائی درکار ہے کہ معاہدے میں کن شرائط کو شامل کیا جائے اور کن شرائط کو شامل نہ کیا جائے۔ راہنمائی فرما کر شکریہ کا موقعہ عنائت فرمائیں۔

جواب:

اگر آپ کے دوست آپ کے ساتھ مل کر اس طرح  سرمایہ کاری کریں کہ سرمایہ ان کی طرف سے فراہم کیا جائے گا اور محنت آپ کی ہوگی، جبکہ فریقین ایک خاص نسبت سے نفع و نقصان دونوں میں شریک ہوں گے۔ سرمایہ کاری کی یہ صورت مضاربت کہلاتی ہے۔ اس میں سرمایہ فراہم کرنے والے شخص کو رب المال اور محنت کرنے والے کو مضارب کہتے ہیں اور جو سرمایہ لگایا جائے وہ راس المال کہلاتا ہے۔ اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ رب المال اور مضارب نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوں گے۔ اگر نفع ہوا تو پہلے سے طے شدہ نسبت کے مطابق فریقین میں تقسیم ہوگا، اور اگر نقصان ہوا تو رب المال کا سرمایہ اور مضارب کی محنت ضائع ہوگی۔ سارا نقصان کسی ایک فریق پر نہیں ڈالا جائے گا۔

سرمایہ کاری کی دوسری صورت یہ ہے کہ چند افراد مل کر سرمایہ کاری کریں اور محنت بھی کریں، یہ مشارکہ ہے۔ اس صورت میں جس نسبت سے سرمایہ لگایا ہوگا اور محنت کی جائے گی اسی نسبت سے نفع و نقصان تقسیم کیا جائےگا۔ مضاربت اور مشارکت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے فریقین کو ایک دوسرے سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے کیونکہ ان کا مفاد مشترکہ ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری کے درج بالا جائز طریقوں کے علاوہ ہر وہ طریقہ بھی جائز ہے جس میں نفع کے ساتھ نقصان کا احتمال بھی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-06-02


Your Comments