Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا روایتی اور اسلامک بینک میں ملازمت کا حکم ایک جیسا ہی ہیں؟

کیا روایتی اور اسلامک بینک میں ملازمت کا حکم ایک جیسا ہی ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: سید علی الاحسن       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 3546:

السلام علیکم! میں‌ پچھلے نو (9) سال سے ایک سرکاری بینک میں‌ ملازمت کر رہا ہوں۔ میں‌ ایم بی اے تک تعلیم حاصل کی اور اب اس بینک میں‌ آفیسر ہوں۔ میں‌ یہاں‌ سے معقول تنخواہ لے رہا ہوں‌ بینک کی طرف سے ہاؤس اور کار فنانس کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہوں۔

ہمارے بینک میں‌ اسلامک بینکنگ کا بھی شعبہ قائم کیا گیا ہے، جہاں‌ مفتی صاحب بینک کی مشاورت کرتے ہیں‌ اور فتاویٰ جات جاری کرتے ہیں‌ جس سے ہمارے بینک کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

ہمارے بینک میں‌ آج کل ایک بحث چل رہی ہے۔ ہمارے کچھ ساتھیوں‌ کا کہنا ہے کہ روایتی بینکنگ ہو یا اسلامک بینکنگ دونوں ہی ربوٰ اور سود سے پاک ہیں۔ وہ کہتے ہیں‌ کہ یہ دونوں‌ طرح کی بینکنگ حلال ہے، اور ہمارے لیے اس میں‌ کام کرنا اور تنخواہیں‌ لینا جائز ہے۔ یہ ملازمت ان کی نظر میں‌ انسانیت کی خدمت کا بہترین ذریعہ ہے۔

اس کے برعکس ایک دوسرا گروہ بھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ روایتی بینکاری حرام جبکہ اسلامی بینکگ حلال اور جائز ہے۔

اب ایک تیسرا گروپ بھی ہے، جن کا خیال ہے کہ روایتی اور اسلامی بینکنگ دونوں‌ ایک جیسی ہیں اور ان دونوں‌ میں‌ کوئی فرق نہیں۔ ان دونوں‌ میں‌ ربوٰ اور سود کے مضرات شامل ہیں۔ ان کے مطابق نہ صرف سرکاری بینکوں‌ میں، بلکہ نام نہاد اسلامی بینکوں‌ میں‌ بھی ایک ہی طرح کی بینکنگ ہے، اور باقی سب دھوکہ دہی ہے۔

سر! میں‌ اور مجھ جیسے کئی آفیسرز الجھن اور پریشانی کا شکار ہیں۔ مجھے ایک خاندان کی کفالت بھی کرنی ہے، اس لیے فوراً ملازمت نہیں‌ چھوڑ سکتا۔

اگر یہ سب حرام ہے تو مجھ سمیت تمام بینک ملازمین کی ملازمت کے بارے میں‌ کیا حکم ہے؟ ہماری عبادات کی قبولیت کا کیا حکم ہے؟

براہ کرم ایک تفصیلی فتاویٰ جاری فرمائیں‌، تاکہ ہم اسے بینک ملازمین کے ساتھ شئر کرکے الجھن کا خاتمہ کر سکیں۔

جواب:

ہمارے علم، تحقیق اور تجربے کے مطابق پاکستان میں ابھی تک ایسا کوئی بینک قائم نہیں ہوا جو مکمل طور پر اسلامی اصولِ معیشت پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ سود، جو ہمارے دین اور ملکی آئین میں قطعاً حرام و ممنوع ہے، ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں ہمارے بینکنگ کے نظام کی بنیادی اکائی بنا ہوا ہے۔ اس لیے بینکنگ روایتی ہو یا کسی اسلامی نام سے، اگر اس میں سودی لین دین ہو رہا ہے تو وہ شرعاً و قانوناً ناجائز اور جرم ہے۔ سود کی تعریف اور اس کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

سود کی جامع تعریف کیا ہے؟

بلاسود بینکاری اور اسلامی معیشت

بلاسود بینکاری کا عبوری خاکہ

درج بالا سوال اور ڈاکٹر محمدطاہرالقادری کی تصانیف کے مطالعے سے آپ سودی اور غیرسود نظامِ بینکاری کے فرق کو سمجھ جائیں گے۔

مکمل طور پر سودی لین دین کرنے والے یا سودی شعبہ جات رکھنے والے بینکوں میں سود لکھنے، گواہی دینے یا کام کرنے والے ملازمین کوشش کریں کہ اپنی ذمہ داریاں ان بینکوں یا شعبہ جات میں لگوا لیں جو کسی حد تک غیرسودی ہیں یا ہونے کا تاثر دیتے ہیں یا پھر کوئی متبادل ملازمت تلاش کرلیں۔ لیکن جب تک کوئی دوسری ملازمت یا غیرسودی شعبہ نہیں ملتا تب تک موجودہ ملازمت کو اضطراری یا مجبوری کی صورت میں جاری رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ ملازمت چھوڑ کر بیروزگار ہوجائیں اور کہیں اس سے بھی بڑا حرام نہ کھانا پڑ جائے۔ نئی ملازمت کی تلاش میں جتنا عرصہ لگے، سودی لین دین سے نفرت اور اس کے خاتمے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ لہٰذا الجھن کا شکار ہونے کی جائے متبادل ملازمت کی کوشش کریں۔ جب کوشش اخلاص کے ساتھ ہوگی تو اللہ پاک مدد بھی فرمائے گا۔

عبادات کی قبولیت اور عدم قبولیت اللہ تعالیٰ کے راز ہیں، اور وہی اس کے بارے میں جاتنا ہے۔ ہمیں اس کے اوامر کو بجا لانے اور اس کے نواہی سے بچ جانے کی کوشش کرنی ہے، آگے مالک کی مرضی وہ قبول کرے یا رد کردے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-04-15


Your Comments