Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ایک مستحق کے لیے جمع کردہ صدقات دوسرے مستحق پر خرچ ہو سکتے ہیں؟

ایک مستحق کے لیے جمع کردہ صدقات دوسرے مستحق پر خرچ ہو سکتے ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  علاج معالجہ

سوال پوچھنے والے کا نام: لیاقت علی اعوان       مقام: اوکاڑہ

سوال نمبر 3530:

السلام علیکم! زید (مستحق فرد) کے علاج کے لیے مخیرحضرات سے جمع کی ہوئی رقم میں سے کچھ رقم بکر (مستحق فرد) کے علاج کے لیے خرچ کی جا سکتی ہے؟ جبکہ زید کو اپنےعلاج کیلیے خرچ ہونے والی رقم کا نہیں پتہ کہ کہاں سے آ رہی ہے؟

راہنمائی درکار ہے۔

جواب:

مخیر حضرات نے اگر کسی ایک مخصوص فرد کے علاج کے لیے کسی فرد یا ادارے کو کوئی رقم دی ہے، تو وہ صرف اُسی فرد کا حق ہے جس کے لیے دی گئی ہے۔ اس رقم سے صرف اسی کا علاج جائز ہے۔ اس کے برعکس اگر انہوں نے تمام مستحقین کے علاج کے لیے ادارے کو صدقہ و خیرات کی رقم فراہم کی ہے، تو پھر زید، بکر سمیت تمام مستحق افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ایسی رقم سے ہر مستحق کا علاج جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-03-12


Your Comments