Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - مستحقینِ زکاۃ کو کیسے تلاش کیا جائے؟

مستحقینِ زکاۃ کو کیسے تلاش کیا جائے؟

موضوع: زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: وسیم اللہ خان       مقام: ڈیرہ اسماعیل خان

سوال نمبر 3528:
السلام علیکم! مستحقین زکوٰۃ کو کس طرح تلاش کیا جائے؟ براہ مہربانی راہنمائی فرما دیں شکریہ

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا ہے۔

التوبة، 9: 60

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آٹھ (8) ایسے لوگ بتائے ہیں جن کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ یہ مصارف زکوٰۃ کہلاتے ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:

  1. فقراء
  2. مساکین
  3. عاملینِ زکوٰۃ (زکوۃ وصول کرنے والے)
  4. مولفۃ القلوب (ایسے غیر مسلم جو محتاج ہوں اور ان کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو)
  5. غلام کی آزادی میں
  6. مقروض
  7. فی سبیل اللہ
  8. مسافر

احناف کے نزدیک ان میں سے کسی بھی مصرف میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی ہوجائے گی اور دینے والا دینی فریضہ سے سبکدوش ہوجائے گا، خواہ ایک پر صرف کرے خواہ دو پر خواہ زیادہ پر یہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔ زکوٰۃ دینے والے کا فریضہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے اعزاء و اقرباء میں فقراء و مساکین کو تلاش کرے۔ اگر مل جائیں تو یہی اولین مستحق ہیں۔ فقیر اور مسکین کی وضاحت درج ذیل ہے:

فقیر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو کچھ نہ کچھ مال و اسباب رکھتا تو ہو مگر وہ اس کی ضروریات زندگی کے لیے ناکافی ہو۔ اگر گرد و پیش میں نظر دوڑائی جائے تو ایسے افراد کی کثرت نظر آئے گی کہ معمولی ملازمت یا چھوٹے پیمانے کے کاروبار تو کرتے ہیں مگر ان کی آمدن گھریلو اخراجات پورے کرنے میں ناکافی ہوتی ہے۔ سفید پوشی کی وجہ سے ایسے افراد دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ لوگ زکوٰۃ کے مستحقین میں آتے ہیں۔ مسکین ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے۔

زکوٰۃ کا سب سے پہلا مصرف فقراء اور مساکین کو بتایا گیا ہے۔ یہ ذکر میں تقدیم اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کا حق مقدم ہے۔ لہٰذا رشتہ داروں، ہمسائیوں اور اقرباء میں سے فقراء اور مساکین زکوٰۃ و صدقات کے مستحق ہیں، ان کو دینا احسن ہے۔

مزید وضاحت کے لیے مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی کی کتاب ’’مسائلِ زکوٰۃ‘‘ ملاحظہ کیجیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-03-12


Your Comments