Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا موبائل کمپنیوں کے دیے گئے ایڈوانس پر اضافی کٹوتی سود کے زمرے میں‌ آتی ہے؟

کیا موبائل کمپنیوں کے دیے گئے ایڈوانس پر اضافی کٹوتی سود کے زمرے میں‌ آتی ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: کفایت الرحمان       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3521:
السلام علیکم! موبائل فون کمپنیاں ایڈوانس دیکر اگلے ریچارج پر اضافی پیسوں سمیت ایڈوانس کی رقم کاٹ لیتی ہیں، تو کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب:

موبائل کمپنیوں کا ایڈوانس دے کر واپسی کے وقت اضافی اخراجات لینا سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔ موبائل کمپنی نقد رقم کی صورت میں ادھار نہیں دیتی بلکہ کمپنی کی طرف سے جو بیلنس موبائل میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے وہ در حقیقت گفتگو کا حق ہے۔گویا ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی، بلکہ ایک خدمت لی ہے، جس کی قیمت ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں (جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں)۔ فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔ پس اضافی رقم پر سود کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-03-04


Your Comments