Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بچوں‌ کی پیدائش میں وقفہ جائز ہے؟

کیا بچوں‌ کی پیدائش میں وقفہ جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ایس کے ساڈاب       مقام: الہند

سوال نمبر 3507:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں اور میری بیوی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم چار سال تک بچہ پیدا نہیں‌ کریں گے، اس کے بارے میں دو سوالات کے جوابات درکار ہیں: کیا اسلام میں اس طرح‌ کرنے کی اجازت ہے؟ حمل نہ ٹھہرانے کا جائز طریقہ کونسا ہے؟

جواب:

آپ نے واضح نہیں کیا کہ آپ لوگ شادی کے بعد پہلا بچہ ہی چار (4) سال تک پیدا نہیں کرنا چاہتے یا ایک بچے کی پیدائش کے بعد چار سال کا وقفہ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر شادی کے بعد بلاوجہ پہلا بچہ چار سال تک پیدا نہیں کرنا چاہتے تو یہ نہ صرف شرعی نقطہ نظر سے ناجائز ہے بلکہ کسی طور بھی فائدہ مند نہیں ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ایک بچے کی پیدائش کے بعد دوسرا بچہ چار سال بعد پیدا کرنا چاہتے ہیں تو یہ نہ صرف شرعی نقطہ نظر سے جائز ہے بلکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے ضروری بھی ہے۔ اس سے پہلا بچہ مدت رضاعت پوری کر کے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے گا اور آنے والا بچہ بھی صحت مند ہوگا۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

حاملہ عورت کتنے عرصہ تک پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟

مانع حمل کا جوطریقہ بھی مستند ڈاکٹر تجویز کرے اپنایا جاسکتا ہے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ طبی نقطہ نظر نقصان دہ نہ ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-02-16


Your Comments