Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا فاریکس (فارن کرنسی ایکسچینج) کا کاروبار جائز ہے؟

کیا فاریکس (فارن کرنسی ایکسچینج) کا کاروبار جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد نوید       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3498:
السلام علیکم مفتی صاحب!‌ کیا فوریکس (ایسی تجارت جس میں زر کی تجارت کی جاتی ہے، یعنی ایک ملک کے زر کے بدلے دوسرے ملک کا زر خریدا جاتا ہے۔ ہر ملک کے زر کی دوسرے ملک کے زر کی شرح منڈی میں مختلف ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اوتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے) کا کاروبار جائز ہے؟ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے غیر ملکی کرنسی خریدی جاتی ہے، یہ مکمل ملکیت میں‌ ہوتی ہے۔ پھر آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کمپنی کو بھیجی جاتی ہے۔ اس کے بعد کرنسی یا زرمبادلہ کا آن لائن کاروبار کیا جاتا ہے۔ آپ جب چاہیں اپنی رقم اور منافع لے سکتے ہیں۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔

جواب:

فاریکس ٹریڈنگ یعنی ایک ملک کی کرنسی کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ دوسرے ملک کی کرنسی کی خرید و فرخت جائز ہے۔ عام طور پر آن لائن ٹریڈنگ میں خرید و فرخت صرف زبانی جمع خرچ یا ہوائی باتیں ہی ہوتی ہیں۔ اس کی بجائے اگر خرید و فرخت کا حقیقی وجود ہو یعنی مبیع اور ثمن کے تعیّن کے ساتھ بائع اور مشتری کی ملکیت بھی ثابت ہو تو یہ تجارت حقیقی وجود رکھتی ہے۔ ایسی تجارت خواہ عام طریقہ سے کی جائے یا اکاؤنٹس کے ذریعے جائز ہے۔

مذکورہ کاروبار بھی اگر ان شرائط کو پورا کرتا ہے تو جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-02-11


Your Comments