Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو کیا غسل میں ہر بال کی جڑ سے نوک تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟

سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو کیا غسل میں ہر بال کی جڑ سے نوک تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟

موضوع: غسل   |  طہارت

سوال نمبر 349:
سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو کیا غسل میں ہر بال کی جڑ سے نوک تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟

جواب:
اگر غسل کرنے والی عورت کے سر کی جڑوں تک پانی بالوں کو کھولے بغیر پہنچ جائے تو اس کے لیے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں جیسا کہ درج ذیل حدیث مبارکہ سے ثابت ہے :

’’حضرت ام سلمی رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم! میں اپنے سر پر بہت کس کر مینڈھیاں باندھتی ہوں کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں تمہارے لیے سر پر صرف تین چلو پانی بہا لینا کافی ہے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الحيض، باب حکم ضفائر المغتسلة، 1 : 259، رقم : 330

جمہور فقہاء کے نزدیک اگر گوندھے ہوئے بالوں تک پانی نہ پہنچے تو پھر بالوں کا کھولنا واجب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments