Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - گھر میں قرآنِ مجید یا وظائف پڑھانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

گھر میں قرآنِ مجید یا وظائف پڑھانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

موضوع: تلاوت‌ قرآن‌ مجید  |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: لیاقت علی اعوان       مقام: اوکاڑہ

سوال نمبر 3478:

السلام علیکم! اکثر گھروں میں دینی محافل منعقد کی جاتی ہیں جن میں رشتہ دار، دوست و ہمسایہ احباب کو مدعو کر کے قرآن خوانی اور نعت خوانی کی جاتی ہے۔ قرآن خوانی کے لیے پورا قرآن یعنی تیس (30) پارے یا بہتر (72) بار سورۃ یٰسین یا ہزاروں مرتبہ آیت کریمہ وغیرہ پڑھا جاتا ہے، جس کے لیے کافی وقت درکارہوتا ہے۔ ایسے میں جو افراد تلاوت کرتے ہیں وہ جلد سے جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ زیادہ دیرکرنے سے افراد اُکتا یا تھک نہ جائیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا جوسوچا یا ارادہ کیا ہوتا ہے وہ پورا پڑھا جائے خواہ جتنا بھی وقت لگے اور افراد چاہے تھک جایئں؟ یا ایک خاص وقت میں جتنا آسانی سے اور ٹھیک پڑھا گیا ہو وہ کافی ہوتا ہے کہ جو پڑھا اللہ قبول فرمائے۔

راہنمائی فرما دیجیئے۔ جزاک اللہ خیراً

جواب:

حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ قَالَ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْهِ قُلُوبُکُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ‌ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس کے ساتھ لگے رہیں اور جب تم اکتاہٹ (تھکاوٹ) محسوس کرو تو پڑھنا چھوڑ دو۔

  1. بخاري، الصحیح، 6: 2680، رقم: 6931، دار ابن کثیر الیمامة بیروت
  2. مسلم، الصحیح، 4: 2053، رقم: 2667، دار احیاء التراث العربي بیروت
  3.  أحمد بن حنبل، المسند، 4: 313، رقم: 18836، مؤسسة قرطبة مصر

مذکورہ بالا حدیثِ مبارکہ سے واضح ہے کہ قرآنِ پاک جتنا آسانی سے پڑھا جائے وہی بہتر ہے۔ لازم نہیں کہ فی بندہ ہزاروں مرتبہ آیتِ کریمہ اور دیگر وظائف مکمل کرے گا۔ اگر اس طرح کی کوئی شرط عائد کی گئی تو پڑھنے والا اکتاہٹ محسوس کرے گا، اس لیے طریقہ کا درست نہیں۔ محافل میں قرآن خوانی، نعت اور خطاب کا وقت مقرر ہونا چاہیے تاکہ لوگ آسانی محسوس کریں اور آئندہ بھی شوق سے شرکت کریں۔ لہٰذا جتنا قرآنِ پاک یا وظائف آسانی سے ٹھیک ٹھیک پڑھے جائیں وہی اللہ کے حضور پیش کرنا بہتر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-01-27


Your Comments