Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک میں نفع و نقصان شراکتی کھاتا کھلوانا جائز ہے؟

کیا بینک میں نفع و نقصان شراکتی کھاتا کھلوانا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  PLS اکاؤنٹ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ظفریاب       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 3467:
السلام علیکم! کیا بینک میں پرافٹ اینڈ لاس شئرنگ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے؟

جواب:

بینک میں نفع و نقصان شراکتی کھاتا کھلوانا جائز ہے۔ ہمارے نزدیک یہ شعبہ عین اسلامی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ کھاتا یا اکاؤنٹ کھلواتے وقت جو معاہدہ بینک اور صارف کے درمیان طے پاتا ہے اس میں نفع و نقصان کی شراکت کے ساتھ کھاتا یا اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے۔ اسی معاہدہ کو دیکھتے ہوئے ہم اپنی رقوم ان کھاتوں یا اکاؤنٹس میں رکھ سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-01-22


Your Comments