Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا زکوٰۃ کی رقم اعلاج پر خرچ کی جا سکتی ہے؟

کیا زکوٰۃ کی رقم اعلاج پر خرچ کی جا سکتی ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: ناصر محمود       مقام: کراچی

سوال نمبر 3414:
’’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لرننگ اینڈ لیونگ‘‘ ایک ٹرسٹ ہے جو تحقیق کے شعبہ میں پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ہمارا ادارہ ذہنی صحت کے علاج کی فراہمی کے ذریعہ ماں اور بچہ کی صحت میں بہتری لانے کے لئے کوشش کررہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہم ماؤں میں ڈپریشن (اعصابی تناؤ) کو کم کرنے کا علاج مختلف طریقوں سے کرتے ہیں، جس میں سہارا اور مشورے ، ورزش، نفسیاتی علاج مثلاً ذاتی مدد کی راہنمائی کا کتابچہ، بات چیت کے ذریعہ علاج، سوچ اور برتاؤ کی تھراپی اور ڈپریشن کو کم کرنے والی دوائیاں اور اس کے ساتھ ایک اور مؤثر طریقہ علاج (جو تحقیق سے ثابت ہے) کھیل کھیل میں سیکھنا وغیرہ شامل ہے۔ کیا ہم زکوۃ کی رقوم کو اس مد میں استعمال کرسکتے ہیں؟ براہ مہربانی اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

اس سوال کا جواب پہلے دیا جاچکا ہے۔ جواب کے مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا زکوٰۃ کی رقم مستحق مریضوں کے علاج پر خرچ کی جاسکتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد ثناء اللہ طاہر

تاریخ اشاعت: 2014-12-19


Your Comments