Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انتہائی مجبوری میں سود پر قرض لیا جاسکتا ہے؟

کیا انتہائی مجبوری میں سود پر قرض لیا جاسکتا ہے؟

موضوع: قرض   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد طارق علی       مقام: کراچی

سوال نمبر 3412:
کیا انتہائی مجبوری میں سود پر قرض لیا جاسکتا ہے؟ مجھے انتہائی مجبوری ہے اور میں‌ ہاؤس لون سے قرض لینا چاہتا ہوں، کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب:

ہاؤس لون کا طریقہ کار عام طور پر سودی ہوتا ہے، اور سود لینا اور دینا ایک مسلمان کے لیے اصلاً حرام ہے۔ اگر آپ کو مکان بنانے کے لیے قرضہ حسنہ کی صورت میں سرمایہ مل سکتا ہے تو آپ کے لیے یہ سودی روپیہ حاصل کرنا حرام ہے۔ اگر مطلوبہ رقم کے حصول کا کوئی حلال طریقہ نہیں اور حالت اضطرار ہے تو سودی قرض لینے کی گنجائش ہے۔ جس طرح حالتِ اضطرار میں خنزیر کھا لینے کی اجازت ہے، اسی طرح مجبوری کی حالت میں سود پر قرض لینے کی بھی گنجائش ہے۔ اس صورت میں گناہ سود پر قرض دینے والے کو ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-02-05


Your Comments