سحری کے اختتام کا صحیح وقت کیا ہے؟

سوال نمبر:3340
السلام علیکم! سحری کا صحیح وقت کیا ہے؟

  • سائل: سیِّد محمد قاسم علی شاہ بخاریمقام: اوکاڑہ
  • تاریخ اشاعت: 31 اکتوبر 2014ء

زمرہ: روزہ  |  سحر و افطار کے احکام

جواب:

قرآن و حدیث کی روشنی میں سحری ختم ہو نے کا وقت درج ذیل ہے:

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ.

اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔

البقرة، 2: 187

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ} عَمَدْتُ إِلَی عِقَالٍ أَسْوَدَ وَإِلَی عِقَالٍ أَبْیَضَ فَجَعَلْتُهمَا تَحْتَ وِسَادَتِي فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّیْلِ فَلَا یَسْتَبِینُ لِي فَغَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اﷲِ فَذَکَرْتُ لَه ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِکَ سَوَادُ اللَّیْلِ وَبَیَاضُ النَّهارِ۔

حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب آیت نازل ہوئی: ’’یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہو جائے سفید دھاگا سیاہ دھاگے میں سے‘‘ تو میں نے ایک سیاہ دھاگا اور ایک سفید دھاگا لے کر اُنہیں اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا اور میں رات کو دیکھتا رہا لیکن مجھ پر کچھ ظاہر نہ ہوا۔ صبح کے وقت میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔

  1. بخاری، الصحیح، 2: 677، رقم: 1817، دار ابن کثیر الیمامة بیروت

  2. مسلم، الصحیح، 2: 766، رقم: 1090، دار احیاء التراث العربی بیروت

  3. أحمد بن حنبل، المسند، 6: 377، رقم: 19389، مؤسسة قرطبة مصر

  4. أبی داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2369، دار الفکر

  5. ترمذی، السنن، 5: 211، رقم: 2970، دار احیاء التراث العربی بیروت

عَنْ سَهلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُنْزِلَتْ (وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) وَلَمْ یَنْزِلْ مِنَ (الْفَجْرِ) فَکَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهمْ فِي رِجْلِه الْخَیْطَ الْأَبْیَضَ وَالْخَیْطَ الْأَسْوَدَ وَلَمْ یَزَلْ یَأْکُلُ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَه رُؤْیَتُهمَا فَأَنْزَلَ اﷲُ بَعْدُ {مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّه إِنَّمَا یَعْنِي اللَّیْلَ وَالنَّهارَ۔

حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت نازل ہوئی:’’اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا ظاہر ہو جائے سیاہ دھاگے میں سے‘‘ اور مِنَ الْفَجْرِ کا لفظ نازل نہیں ہوا تھا۔ سو کوئی آدمی جب روزے کا ارادہ کرتا تو اپنے پیر میں سفید اور سیاہ دھاگا باندھ لیتا اور جب تک اُسے یہ دونوں نظر نہ آتے تو کھاتا رہتا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجْرِ کا لفظ نازل فرمایا تو لوگوں نے جان لیا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔

  1. بخاری، الصحیح، 2: 677، رقم: 1818

  2. مسلم، الصحیح، 2: 767، رقم: 1091

عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَة رضی اﷲ عنها أَنَّ بِلَالًا کَانَ یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّه لَا یُؤَذِّنُ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ الْقَاسِمُ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ أَذَانِهمَا إِلَّا أَنْ یَرْقَی ذَا وَیَنْزِلَ ذَا۔

قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت بلال رات میں اذان کہا کرتے۔ رسول اللہ ٍصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ ابن اُم مکتوم اذان کہیں کیونکہ وہ فجر طلوع ہونے پر ہی اذان کہتے ہیں۔ قاسم بن محمد نے فرمایا کہ اِن دونوں کی اذانوں میں اتنا فرق ہی ہوا کرتا تھا کہ یہ چڑھتے اور وہ اُترتے تھے۔

  1. بخاری، الصحیح، 2: 677، رقم: 1819

  2. مسلم، الصحیح، 2: 768، رقم: 1092

عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلَة قُلْتُ کَمْ کَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِینَ آیَة۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے کہا کہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا۔ کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے برابر۔

  1. بخاری، الصحیح، 2: 678، رقم: 1821

  2. مسلم، الصحیح، 2: 771، رقم: 1097

حَدَّثَنِي قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ عَنْ أَبِیه قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا یَهیدَنَّکُمْ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَعْتَرِضَ لَکُمْ الْأَحْمَرُ۔

قیس بن طلق نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کھاؤ، پیؤ اور تم کو ہر گز کھانے پینے سے نہ روکے سیدھی اوپر کو جانے والی (صبح کاذب) اور کھاؤ ، پیو تا وقتیکہ روشنی کی سرخی اُفق پر پھیل جائے۔

  1. أبی داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2367

  2. ترمذی، السنن، 3: 85، رقم: 708

  3. ابن أبي شیبة، المصنف، 2: 388، رقم: 9069، مکتبة الرشد الریاض

  4. طبراني، المعجم الکبیر، 8: 336، رقم: 2257، مکتبة الزهراء الموصل

سحری کھانے میں اکثر صحابہ کرام کا مسلک:

ذهب جماعة من الصحابة وقال به الأعمش من التابعین وصاحبه أبو بکر بن عیاش إلی جواز السحور إلی أن یتضح الفجر، فروی سعید بن منصور عن أبي الأحوص عن عاصم عن زرّ عن حذیفة قال (تسحرنا مع رسول اﷲ هو واﷲ النهار غیر أن الشمس لم تطلع) وأخرجه الطحاوي من وجه آخر عن عاصم نحوه، وروی ابن أبي شیبة وعبد الرزاق ذلک عن حذیفة من طریق صحیحة، وروی سعید بن منصور وابن أبي شیبة وابن المنذر من طرق عن أبي بکر أنه أمر بغلق الباب حتی لا یری الفجر، وروی ابن المنذر بإسناد صحیح عن علی أنه صلی الصبح ثم قال: الآن حین تبین الخیط الأبیض من الخیط الأسود، قال ابن المنذر: وذهب بعضهم إلی أن المراد بتبین بیاض النهار من سواد اللیل أن ینتشر البیاض في الطرق والسکک والبیوت، ثم حکی ما تقدم عن أبی بکر وغیره۔ وروی بإسناد صحیح عن سالم ابن عبید الأشجعي وله صحبة أن أبا بکر قال له((أخرج فأنظر هل طلع الفجر؟ قال فنظرت ثم أتیته فقلت: قد أبیض وسطع، ثم قال: أخرج فأنظر هل طلع؟ فنظرت فقلت: قد اعترض فقال: الآن أبلغنی شرابی)) وروی من طریق وکیع عن الأعمش أنه قال((لو لا الشهوة لصلیت الغدة ثم تسحرت))قال إسحٰق: هؤلاء رأوا جواز الأکل والصلة بعد طلوع الفجر المعترض حتی یتبین بیاض النهار من سواد اللیل، قال إسحٰق: و بالقول الأول أقول، لکن لا أطعن علی من تأول الرخصة کالقول الثاني ولا أری علیه وقضاء ولا کفارة۔ قلت: وفي هذا تعقب علی الموافق وغیره حیث نقلوا الإجماع علی خلاف ماذهب إلیه الأعمش واﷲ أعلم۔

صحابہ کرام کی ایک جماعت اور تابعین میں سے امام اعمش اور ان کے صاحب ابو بکر بن عیاش صبح کی روشنی تک سحری کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ چنانچہ سعید بن منصور، ابو لاحوص سے، وہ عاصم سے وہ زِرّ ابن حبیش سے اور وہ حذیفہ رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں ۔ خدا کی قسم ہم لوگوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دن چڑھے سحری کھائی صرف اتنا فرق تھا کہ سورج طلوع نہیں ہوا تھا ۔ اسی روایت کو امام طحاوی نے دوسرے طریق سے عاصم وغیرہ سے روایت کیا ۔ امام ابن ابی شیبہ و عبدالرزاق نے یہی روایت حذیفہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے سندوں کے ساتھ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا کہ فجر نظر نہ آئے۔ ابن المنذر سند صحیح کے ساتھ حضرت علی کرم اﷲوجہ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد فرمایا اب سفید دھا گہ سیاہ دھاگے سے جدا نظر آرہا ہے۔ ابن المنذر نے کہا بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ ــــــدن کی سفیدی رات کی تاریکی سے واضح نظر آئے کہ راستوں ، گلیوں اور مکانوں میں روشنی پھیل جائے۔ پھر ابن المنذر نے مذکورہ بالا تمام روایات نقل کیں۔ اور سند صحیح کے ساتھ سالم بن عبید الاشجعی صحابی سے روایت نقل کی کہ حضرت ابو بکر صدیقص نے فرمایاباہر جا کر دیکھو: صبح طلوع ہو چکی ہے ، کہا کہ میں نے دیکھا اور پھر آکر عرض کی، جناب سفید ہو گئی ، فجر طلوع ہو گئی ، پھر فرمایا باہر جا کر دیکھوںصبح طلوع ہو گئی؟ میں نے دیکھا پھر عرض کی ، جناب روشنی پھیل گئی ہے۔ فرمایا میرا پانی لاؤ۔ وکیع عن الاعمش کے طریق سے(ابن المنذر) کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے فرمایا: اگر بھوک نہ ہوتی تو نماز فجر پڑھ کر سحری کرتا۔ امام اسحاق نے کہا ان تمام بزرگوں کی رائے میں کھانا پہلے اور نماز فجر خوب روشنی ہونے پر ادا کرنا جائز ہے۔ تاکہ دن کی سفیدی رات کی تاریکی سے خوب ظاہر ہو جا ئے ۔ اسحٰق نے کہا میں قول پر عامل ہو مگر جو کوئی قول ثانی کے مطابق رخصت کا قائل ہے اس پر طعن نہیں کرتا۔ نہ ایسے شخص پر قضاء یا کفارہ ہے ۔ میں کہتا ہوں اسی بناء پر موفق وغیرہ نے اعراض کیا ہے، اور انہوں نے الاعمش کے خلاف اجماع نقل کیا ہے۔ اﷲ بہتر جانتا ہے۔

  1. علامه ابن حجر عسقلاني، فتح الباری شرح صحیح البخاری، 6: 137، دار المعرفة بیروت

  2. علامه بدرالدین محمود العینی، عمدة القاري شرح صحیح البخاري، 10: 295، دار إحیاء التراث العربي بیروت

صبح صادق تک روزہ دار کھا پی سکتا ہے۔ جو نہی صبح صادق طلوع ہوہاتھ کھینچ لے۔ جمہور صحابہ کرام اور تابعین کا یہی قول ہے۔ معمر، سلیمان، الاعمش، ابومجلز اور حکم بن عیینہ رضی اﷲ عنہم کے نزدیک طلوع شمس تک کھانا پینا جائز ہے۔ ان کی دلیل حذیفہ ص کی روایت ہے جسے طحاوی نے زِرّ بن حبیش سے نقل کیا ہے کہ میں سحری کھا کر مسجد کی طرف جائز تھا۔ حضرت حذیفہ ص کے گھر سے گزرا اور اندر چلاگیا۔ انہوں نے دودھ دوہنے کا حکم دیا۔ دودھ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے ہانڈی میں گرم کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا : پئیں میں نے عرض کی میں نے روزے کی نیت کر لی ہے۔ فرمایا میرا ارادہ بھی روزہ رکھنے کا ہے۔ سو ہم نے کھانا کھایا اور دودھ پیا۔ پھر مسجد میں نماز ہو چکی تھی۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا ہمارے ہمراہ ایسا ہی عمل رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔میں نے کہا کہ فجر کے بعد؟ کہا فجر کے بعد، اتنی بات کہ سورج نہیں نکلا تھا ۔
امام نسائی نے سنن اور امام احمد نے اپنی مسند میں اور ابن حزم نے حسن سے نقل کیا، طلب کے مطا بق کھالو۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطا سے کہا میں کسی ایسی جگہ ہوں جہاں طلوع فجر کا علم نہ ہو اور مجھے پتہ نہ چلے کہ فجر طلوع ہو گئی ہے تو کیا اس حال میں میرے لئے کھانا پینا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہاں کہ یہ شک ہے کچھ حرج نہیں۔ ابن شیبہ نے معاویہ عن الاعمش عن مسلم یہ روایت بیان کی جسے تم لوگ فجر کہتے ہو اسے فجر شمار نہیں کرتے تھے، وہ فجر اسے شمار کرتے تھے جس کی روشنی گھروں اور راستوں کو خوب روشن کردے۔ معمر سحری میں خوب تاخیر کرتے  یہاں تک بے علم شخص کہے اس کا روزہ نہیں رہا۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر کی سندوں سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا کہ انہوں نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا تاکہ فجر نظر نہ آئے۔ابن المنذر نے صحیح سند کے ساتھ حضرت علی کرم اﷲ وجہ کے بارے میں ذکرکیا کہ انہوں نماز فجر ادا کر کے فرمایا یہ وقت ہے سفید دھاگے کے سیاہ دھاگے سے واضح ہونے کا۔ ابن المنذر نے کہا کہ بعض آئمہ اس طرف گئے ہیں کہ مراد ہے کہ دن کی روشنی کا رات کی روشی سے ممتاز ہونا کہ راستوں، گلیوں اور گھروں میں روشنی بکھر جائے۔ اور انہی (ابن المنذر محدث) نے صحیح سند کے ساتھ سالم بن عبید الاشجعی صحا بی روایت کی کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا باہر جا کر دیکھو فجر ہوگئی؟ کہا کہ میں نے دیکھ کر کہا خوب سفید ہو گئی اور چمک گئی۔ پھر فرمایا کہ دیکھوں فجر طلوع ہو گئی؟ میں نے دیکھ کر کہا کہ سفید ہو گئی ہے۔ فرمایا اب میری شربت (یا پانی) لاؤ۔ اور وقیع عن الاعمش کے طریق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا اگر بات مشہور نہ ہو جائے تو میں نماز فجر ادا کر کے سحری کھاتا۔

امام ترمذی نے طلق بن علی سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

کھاؤ پیو اور تم کو ہرگز کھانے پینے سے نہ روکے سیدھی اوپر کو جانے والی (صبح کاذب) اور کھاؤ پیو تا وقتیکہ روشنی کی سرخی افق پر پھیل جائے۔

العینی، عمدة القاري شرح صحیح البخاري، 10: 297

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ سحری کا وقت طلوع فجر پر ختم ہو جاتا ہے اور طلوع فجر سے نماز فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:

وَاَقِمِ الصَّلٰوة طَرَفَیِ النَّهارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ط۔

اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قا ئم کیجیے۔

هود، 11: 116

یعنی دن کے شروع اور آخر میں فجر اور مغرب کی نماز کی طرف اشارہ ہے اور رات کے کچھ حصے میں عشاء کی نماز کی طرف اشارہ ہے۔

خصوصی رعایت:

قاعدہ قانون کے مطابق سحری کا وقت طلوع فجر سے پہلے پہلے ہی ہے۔لیکن فطری بات ہے انسان کبھی کبھار لیٹ بھی ہو سکتا ہے چونکہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے فہم و فراست ، عقل و دانش اور شعور کے شہنشاہ ، شارع علیہ السلام نے خصوصی رعایت فرمائی ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هرَیْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ إِذَا سَمِعَ أَحَدُکُمْ النِّدَائَ وَالْإِنَائُ عَلَی یَدِه فَلَا یَضَعْه حَتَّی یَقْضِيَ حَاجَتَه مِنْه۔

ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 510، رقم: 10637

  2. أبی داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2350

  3. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 588، رقم: 1552، دار الکتب العلمیةة بیروت

  4. دار قطنی، السنن، 2: 165، رقم:1، دار المعرفةة بیروت

  5. بیهقی، السنن الکبری، 6: 218، رقم: 7809، مکتبة دار الباز مکة المکرمة

نوٹ: تمام بڑے بڑے محدثین نے اس حدیث کو ’’کتاب الصوم‘‘ میں نقل کیا ہے۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے ملا علی القاری حنفی رضی اﷲ عنہ لکھتے ہیں:

و عن أبی هریرة قال قال رسول اﷲ اذا سمع الندائ أی أذان الصبح (أحد کم و الانائ) أی الذی یأکل منه أو یشرب منه (في یده)جملة حالیة (فلا یضعه) أی الاناء (حتی یقضی حاجته منه) أی بالاکل و الشرب

ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (رمضان میں) صبح کی اذان سُنے ، اس حال میں کہ (سحری) کے کھانے پینے کا برتن اس کے ہاتھ میں ہے ، تو کھا پی کر اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے ہاتھ سے نہ رکھے۔

علی بن سلطان محمد القاری، مرقة المفاتیح، 6: 612، دار الکتب العلمیة ، لبنان۔ بیروت

لہٰذا اس قدر شدت نہیں ہونی چاہیے جس طرح بعض لوگ کرتے ہیں کہ اذان شروع ہوتے ہی جو لقمہ منہ میں ہو وہ بھی باہر پھنک دیا جائے کیونکہ عام طورپر لوگ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی سحری کھا لیتے ہیں مجبوراً ہی کوئی بالکل آخری وقت میں کھا پی رہا ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟