Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - کیا مقروض‌ پر زکوٰۃ‌ ہے؟

کیا مقروض‌ پر زکوٰۃ‌ ہے؟

موضوع: زکوۃ  |  شرائط وجوب زکوۃ   |  قرض رقم پر زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: امان اللہ قادری       مقام: شکاگو، یونائٹڈ سٹیٹس

سوال نمبر 3338:
کیا مقروض‌ پر زکوٰۃ‌ ہے؟

جواب:

اگر مقروض کے پاس اس قدر مال ہے کہ قرض کی رقم کو منہا (Deduct) کرنے کے بعد اُس کے پاس بقدر نصابِ شرعی یا اس سے زائد بچ جاتا ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر قرض کی رقم کو منہا کرنے کے بعد بقیہ مال نصابِ شرعی کو نہیں پہنچتا تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ امام علاؤالدین الکاسانی فرماتے ہیں:

اذا کان علیٰ رجل دَين وله مال الزکاة او غيره من عبيد الخدمة و ثياب البذلة و دور السکنیٰ، فان الدين يصرف الیٰ مال الزکاة عندنا، سواء کان من جنس الدين اولا ولا يصرف الٰ غير مال الزکاة وان کان من جنس الدين.

جب کسی شخص پر قرض ہو اور اس کے پاس مال زکوٰۃ اور اس کے علاوہ خدمت کے نوکر، استعمال کے کپڑے، رہائشی مکانات وغیرہ بھی ہوں تو ہمارے نزدیک قرض مال زکوٰۃ میں سے ادا کیا جائے گا، خواہ وہ مال جنس قرض سے ہو یا نہ ہو۔ اور اس کے علاوہ دوسری اشیاء سے ادا نہیں کیا جائے گا ، خواہ وہ جنس قرض سے ہوں۔

علاؤالدين الکاسانی، بدائع الصنائع، 2: 8، بيروت، دارالکتاب العربی

اس لیے کل مال میں سے قرض کے برابر رقم نکال کر باقی کو دکھا جائے گا، اگر وہ نصابِ شرعی کے برابر ہو تو اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-08-31


Your Comments