کیا تین طلاقیں اکٹھی واقع ہو جاتی ہیں؟

سوال نمبر:3320

السلام علیکم! اگر خاوند بیوی کے بھائی کو مخاطب کر کے یوں کہے ’’اور اسے میری طرف سے تین طلاق، تین ہیں کہیں ایک نہ سمجھ لینا کہ پھر بھاگےآؤ کہ طلاق نہیں ہوئی تھی‘‘

یہ الفاظ اس لیے کہے گئے کہ کہنے والے کے خیال میں جب تک ’’تین طلاق‘‘ نہ کہا جائے طلاق نہیں ہوتی.

کیا طلاق ہوئی اگر ہاں تو اب رجوع کیسے ہو سکتا ہے؟

  • سائل: محمد جاویدمقام: بچیانہ
  • تاریخ اشاعت: 21 جولائی 2014ء

زمرہ: طلاق   |  طلاق صریح   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

جواب:

خاوند نے بڑی وضاحت کے ساتھ تین طلاقیں دی ہیں اور اپنے لئے کسی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اتنی صراحت کے ساتھ طلاق دینے کے بعد رجوع کا کوئی راستہ نہیں۔ طلاقِ مغلظہ ہو چکی ہے، اور رجوع حلالہ کے بعد ہی ممکن ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟