کیا سکالرشپ لینا جائز ہے؟

سوال نمبر:3201
السلام علیکم! میرے ابو جس کمپنی میں ملازم ہیں وہاں ملازمین کے بچوں کو سکالرشپ دی جاتی ہے۔کیا سکالرشپ لینا جائز ہے؟ جبکہ میرے ابو کی آمدن بھی اچھی ہے۔ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: ارشیہ علی حسنمقام: راولپنڈی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 09 فروری 2016ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  متفرق مسائل

جواب:

سکالر شپ کے لینے اور نہ لینے کے حکم کا انحصار اس کی نوعیت پر ہے۔ اگر کمپنی نے سکالرشپ کی رقم غریب طلبہ کے لیے مختص ہے تو غیرمستحق طلبہ کے لیے اس کا لینا جائز نہیں۔ اگر کمپنی اپنے تمام ملازمین کے بچوں کو سکالرشپ دیتی ہے اور اس میں غریب و امیر کا فرق نہیں کیا گیا تو پھر تمام ملازمین کے لیے سکالرشپ کی رقم لینا جائز ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سکالرشپ کی رقم کی ضرورت آپ سے زیادہ کسی اور طالبِ علم کو ہے، تو آپ کمپنی سے لیکر یہ رقم اس کو دے سک۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟