گھریلو ضروریات اور حج میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟

سوال نمبر:3094
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ہم 5 بھائی اور ایک بہن ہے میرا نمبر دوسرا ہے میں‌ شادی شدہ ہوں 2 بچے ہیں، 5 سال شادی کو ہوئے ہیں‌، مشترکہ فیملی میں‌ رہتے ہیں، گھر والد صاحب کے نام ہے، پرائیویٹ ملازمت ہے، موجودہ حالات میں‌ اگر میرے پاس 5 سے 6 لاکھ روپے جمع ہو جاتے ہیں تو کیا اس صورت میں‌ مجھے پر حج فرض ہو جائے گا یا پہلے مجھے بچوں کے لیے اپنی ملکیت کا گھر بنانا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: محمد طارق اعوانمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 15 فروری 2014ء

زمرہ: حج

جواب:

جو شادی کے قابل ہیں پہلے تو ان کی شادی کی جائے تاکہ وہ گناہ کی طرف نہ چلے جائیں۔ جب شادی کی جائے گی ظاہر ہے پھر رہنے کے لیے مکان کی بھی ضرورت ہو گی۔ اگر تو والد صاحب کے گھر میں اتنی گنجائش ہے کہ سب بہن بھائیوں کو اتنا اتنا حصہ مل جائے گا کہ آپ لوگ آسانی سے رہ سکیں گے تو پھر آپ کو گھر بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بچے جب جوان ہونگے تو خود ہی بنا لیں گے۔ المختصر اگر ضروریات زندگی کے علاوہ آپ کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ آپ حج کر سکتے ہیں تو کر لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟