Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا پاکستان کے موجودہ حالات میں‌ بینک میں‌ سود پر رقم رکھ کر منافع لے سکتے ہیں؟

کیا پاکستان کے موجودہ حالات میں‌ بینک میں‌ سود پر رقم رکھ کر منافع لے سکتے ہیں؟

موضوع: شراکت   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: کاشف احمد       مقام: دادو، سندھ، پاکستان

سوال نمبر 2980:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جس ملک میں‌ حکمران عوام کے پورے حق ادا نہ کرتے ہوں‌ تو تب کوئی اپنا پیٹ پالنے کے لیے مجبورا چوری کرے تو اس کا گناہ اس شخص پر نہیں‌ بلکہ حکمران پر ہوتا ہے، تو ویسے ہی جب پڑھے لکھے جوانوں کو ملازمت نہ ملتی ہو اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی کفالت نہ کی جاتی ہو نہ ہی کوئی بے روزگاری کا وظیفہ ملتا ہو، کوئی خاص ہنر بھی نہ سیکھا ہو، اور ابو کی ریٹائرمنٹ کے پیسے بھی موجود ہوں، لیکن ماضی میں‌ کبھی کوئی کاروبار نہ کیا ہو، کسی کاروبار کا کوئی تجربہ نہ ہو اور ملک کے حالات اور بھتہ خوری کو دیکھتے ہوئے اپنے پیسے کسی کاروبار میں ڈالتے ہوئے 100 فیصد خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو جب تک کاروبار سمجھ میں‌ آئے یا ملازمت ملے یا ملک کے حالات اتنے اچھے محسوس ہوں کہ نہ بھتہ خوری ہو نہ کچھ تو تب کوئی کاروبار سمجھ میں‌ آئے تو پھر اس میں‌ پیسے انوسٹ کریں، کیا تب تک اپنے ایمان محفوظ رکھنے کے لیے اور مایوسی سے بچنے کے لیے اپنی پوری فیملی کو پالنے کے لیے معاشرے میں ایک مڈل کلاس فیملی کی طرح‌ عزت کے ساتھ جینے کے لیے کیا ہم اپنے پیسے اس نیت سے کے ہم یہی کاروبار کی نیت سے انوسٹ کر رہے ہیں کہ اس میں کوئی خطرہ نہیں‌ تو ہم پاکستان کہ نیشنل سیونگ بینک میں‌ یا کسی اور بینک میں‌ سود پر رکھ کہ منافع لے سکتے ہیں؟‌ کیا اوپر لکھی ہوئی ساری مجبوریوں اور ملک کہ حکمرانوں کا یہ حال ہونے کے باوجود اس کا گناہ ہم پر ہو گا یا ہم کو اتنا مجبور بنا دینے والے حکرانوں پر؟

جواب:

اگر آپ کے پاس پیسے موجود ہیں تو ان کو PLS اکاؤنٹ میں جمع کروا دیں، اس سے منافع کم تو ہو جائے گا لیکن سود تو نہیں ہو گا۔ مجبوریاں تو ضرور ہیں لیکن حرام کھانے سے بہت بہتر ہے کم کھا لیں۔ ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ محنت مزدوری بھی کرتے رہیں اللہ تعالی کرم کرے گا۔ ایسی صورت میں تو اس وقت ہوتی ہے کہ اب جان جانے کا خطرہ ہے۔ جان بچانے کی خاطر حرام بھی کھا سکتے ہیں۔ لیکن وہ بھی ضروری نہیں کہ حرام کھاؤ، رخصت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-01-01


Your Comments