Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا نوجوان لڑکے کا شادی نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟

کیا نوجوان لڑکے کا شادی نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟

موضوع: نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: کلیم اللہ سنگراسی       مقام: تھرپارکر ارنیارو، پاکستان

سوال نمبر 2969:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا نوجوان لڑکے کا شادی نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟

جواب:

جب کوئی نوجوان مالی طور پر بھی اس قابل ہو کہ بیوی کا نان نفقہ ادا کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر بھی اس قابل ہو کہ بیوی کے حقوق پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہوتو اس پر شادی کرنا فرض ہے۔ ایسا بندہ شادی نہ کرے تو اس پر گناہ ہے کیونکہ اگر اس سے گناہ سرزد ہو جائے تو گناہ کبیرہ ہی ہو گا۔ فرض ادا نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

جو جسمانی طور پر شادی کرنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہو لیکن اس کے پاس نان نفقہ کےلیے کچھ نہ ہو تو اسے شادی کی بجائے روزے رکھنے چاہیں۔ جو مالی طور پر تو صلاحیت رکھتا ہو لیکن جسمانی طور پر شادی کے قابل نہ ہو تو اس پر شادی کرنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-12-03


Your Comments