Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا عمل ہے؟

فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا عمل ہے؟

موضوع: نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: اسد اللہ چوہدری       مقام: اسلام آباد

سوال نمبر 2799:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا عمل ہے؟ والدین کو سمجھانے کے باوجود وہ میری بات نہیں سنتے۔ میں جس لڑکی سے پیار کرتا ہوں اس کا حل اب صرف نکاح ہے۔ میں نے والدین کو بتائے بغیر نکاح کر لیا ہے۔ ان کو اس بات کا علم نہیں اور نہ ہی میں ان کو بتانا چاہتا ہوں۔ میں ان کا ادب و احترام بجا لاؤں گا۔

جواب:

پہلی بات یہ ہے کہ فیملی سے باہر شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر شرعی طور پر کوئی ممانعت نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہتر تو یہی تھا کہ والدین کو پہلے رضامند کر لیا جاتا پھر نکاح کیا جاتا، لیکن اب آپ نے نکاح کر لیا ہے، پھر بھی ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تاکہ مسائل سے بچت ہو سکے۔ ہر صورت میں والدین کا ادب واحترام بجا لانا آپ پر فرض ہے۔ لیکن جائز کاموں میں یعنی شرعا جو کام جائز ہیں، اس میں آپ والدین کا حکم بھی بجا لائیں گے، اگر ناجائز کام کا حکم دیں تو اس پر عمل نہ کریں لیکن والدین کی بے ادبی اور گستاخی نہ کریں۔

مزید وضاحت کے لیے درج ذیل سوالات پر کلک کریں

  1. شادی کے معاملات میں والدین کی ناراضگی پر کیا حکم ہے؟
  2. فیملی سے باہر شادی کرنا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-23


Your Comments