کیا قاتل رشتہ دار مقتول کی وراثت کا حقدار بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:2778
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی یتیم لڑکی کو غیرت کے نام پر اس کا کوئی رشتہ دار قتل کر دے جب کہ اس لڑکی کی ماں ابھی زندہ ہو۔ اور اس کی پراپرٹی اس کے وہی رشتہ دار کھا رہے ہیں اس کی ماں سے معافی مانگنے بھاگے تو کیا وہ پراپرٹی اس کے وہ رشتہ دار لے سکتے ہیں؟ اور اگر یہ حرام ہے اور وہ لڑکی تو پہلے قتل ہو گئی تھی اور اب اس کی ماں بھی زندہ نہیں‌ رہی اور اب اس خاندان میں‌ اس کا ایک اور رشتہ دار اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ نہیں‌ ہم ظلم کر رہے ہیں تو اب کیا حکم ہے؟ اب اس پراپرٹی کا کیا کیا جائے؟

  • سائل: غلام محمد صفدرمقام: نا معلوم
  • تاریخ اشاعت: 09 ستمبر 2013ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت  |  ایمانیات

جواب:

قاتل (قتل کرنے والا)، مقتول (قتل ہونے والا) کا وارث بھی ہو تو وراثت کا حقدار نہیں رہتا، اس کو وراثت سے محروم کر دیا جائے گا۔ اب ہمیں معلوم نہیں اس لڑکی کے کون کون سے ورثاء ہیں۔ اگر قریبی زندہ نہیں تو ان کے بعد والے کون ہیں۔ پوری وضاحت ہو تو پھر ہی بتایا جا سکتا ہے کہ اب یہ کس کو ملے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟