Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا مزار پر چادر چڑھانا اور اس کو چومنا شرک ہے؟

کیا مزار پر چادر چڑھانا اور اس کو چومنا شرک ہے؟

موضوع: عقائد  |  شرک   |  مزارات

سوال پوچھنے والے کا نام: جاوید علی       مقام: دہلی، انڈیا

سوال نمبر 2707:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی مزار پر چادر چڑھانا اور اس کو چومنا شرک ہے؟

جواب:

مزارات مقدسہ پر چادریں چڑھانا اور ان کو چومنا شرک نہیں ہے۔ آج کل قرآن وحدیث سے بہت دور کچھ لوگ قرآن وحدیث کے نام پر غلط استدلال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس پر ایک جامع جواب درج ذیل ہے۔

بَابُ الصَّلٰوةِ عَلَی الشَّهِيْدِ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَهْلِ اُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ اِنِّيْ فَرَطٌ لَّکُمْ وَاَنَا شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی الْاٰنَ وَاِنِّيْ اُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَاءِنِ الْاَرْضِ اَوْ مَفَاتِيْحَ الْاَرْضِ وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِيْ وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن باہر نکلے اور احد میں شہید ہوجانے والوں پر نماز پڑھی جیسا کہ آپ میت پر نماز پڑھتے تھے پھر آپ منبر شریف کی طرف واپس تشریف لائے (اور منبر پر جلوہ افروز ہوکر) فرمایا میں تمہارے لئے (فرط) مقدم ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو اب دیکھ رہا ہوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں یا فرمایا زمین کی کنجیاں اور بے شک میں اللہ کی قسم تم پر شرک کرنے کا خوف نہیں رکھتا لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرنے لگ جاؤ گے‘‘۔

بخاری، الصحیح، 1 : 451، الرقم: 1279، دار اابن کثیر الیمامۃ بیروت

زیارتِ مزاراتِ اولیاء و شہداء اور عرس

حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال سے ایک سال قبل ہمیں ساتھ لیا اور احد کے شہداء کے مزارات پر گئے۔ شارحین حدیث نے علی التحقیق لکھا ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال والے سال کا واقعہ ہے، چونکہ یہ حدیث آگے بھی بخاری میں روایت کی گئی ہے جس میں صحابی کہتے ہیں کہ منبر پر خطاب کرتے ہوئے یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری منظر تھا جو ہم نے دیکھا۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے نماز پڑھی جیسے الوداع کرنے والا پڑھتا ہے۔ اس پر محدثین نے کہا کہ یہ آخری سال کا واقعہ ہے گویا اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے مزارات پر تشریف لائے شہدائے احد کو آٹھ سال بیت چکے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کو ساتھ لیا اور ایک پورا اجتماع شہدائے احد کی زیارت کے لئے گیا۔

لہٰذا اجتماعی طور پر مزارات کی زیارت کو جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

آپ کے ساتھ سینکڑوں صحابہ تھے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا۔

گویا سینکڑوں صحابہ کا اجتماع ہوا تو پھر مزار ولی اور مزار شہید پر سینکڑوں کا اجتماع اور زیارت کرنا یہ بھی سنت ہے اور اسی کو عرس کہتے ہیں۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کا عرس منایا تھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے عرس کہاں سے ثابت ہے ؟ حدیث کا اگلا حصہ اس امر کو واضح کررہا ہے کہ جب آپ نے وہاں نماز پڑھ لی یا دعا فرما لی (شارحین حدیث کے ہاں دونوں معنیٰ آئے ہیں)

ثُمَّ انْصَرَفَ اِليَ الْمِنْبَر

 ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر پر قیام فرماکر خطاب کیا‘‘۔

چونکہ منبر پر کھڑے ہوکر خطاب کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی تعداد کثیر تھی کیونکہ اگر تعداد کم ہوتی تو منبر پر قیام فرما کر خطاب کی ضرورت و حاجت نہ تھی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کی کثیر تعداد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھی اور ان تمام کو ساتھ لے کر مزارات شہدائے احد پر آئے۔ شہدائے احد کی قبور میں منبر کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ منبر ساتھ لے کر گئے تھے یا منگوایا گیا تھا۔ گویا جاتے ہوئے یہ ارادہ تھا کہ صرف زیارت ہی نہیں ہوگی بلکہ خطاب بھی ہوگا۔

معلوم ہوا جب مزار کی زیارت ہو، سینکڑوں کا اجتماع ہو، منبر لگے اور منبر پر خطاب ہو یہ تمام اجزاء مل جائیں تو اسی کو عرس کا نام دیا جاتا ہے۔

لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے قبل آداب سکھادیئے کہ شہداء، اولیاء، صالحین کے مزار پر جانا، ان کی اجتماعی زیارت کرنا، خطاب کرنا، ذکر و تذکیر اور وعظ و نصیحت کرنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

اس موقع پر خطاب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فضائل اور مناقب بیان کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام و شریعت میں سے کوئی مسئلہ بیان نہیں کیا بلکہ خطاب شان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر تھا۔ فرمایا : لوگو! میں تم سے پہلے جارہا ہوں تاکہ آگے تمہاری بخشش کا انتظام کروں، میں وہاں تمہارا استقبال کروں گا۔

اِنِّيْ فَرَطٌ لَکُمْ وَفِيْ رَوايَة قَالَ حَيَاتِيْ خَيْرُلَّکُمْ وَمَمَاتِيْ خَيْرٌلَّکُمْ.

’’میں تمہاری خاطر آگے جانے والا ہوں اور ایک روایت میں ہے۔ میری زندگی بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میرا وصال (بھی ) تمہارے لیے بہتر ہے‘‘

یعنی میں تم میں تھا تب بھی تمہیں فیض دیتا رہا، اب آگے جارہا ہوں، وفات بھی تمہارے لئے باعث فیض ہوگی، تمہیں بخشوانے کا سامان کرنے جارہا ہوں۔

ربط بین الالفاظ کے ذریعے حدیث کو پڑھیں۔ پہلا جز یہ تھا کہ اِنِّيْ فَرَطٌ لَّکُمْ اس میں اپنے وصال اور آخرت میں صحابہ و امت کی شفاعت کا اشارہ موجود ہے کہ تمہاری شفاعت کا بندوبست کرنے جارہا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا وَاَنَا شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ اور یہ نہ سمجھنا کہ میں رخصت ہوگیا، نہیں میں پھر بھی تمہیں دیکھتا رہوں گا۔ تمہارے اوپر گواہ اور نگہبان رہوں گا۔ فَرَطٌ لَّکُمْ اور شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ کے درمیان ایک معنوی ربط ہے۔ فَرَطٌ لَّکُمْ وصال کی خبر دے رہا ہے اور شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ اشارہ دے رہا ہے کہ کہیں یہ نہ سمجھنا کہ اب میں نہیں رہا بلکہ میں تم پر نگہبان رہوں گا، تمہارے اعمال اور درود و سلام مجھ پر پیش ہوتے رہیں گے میں تمہارے اعمال نیک و بد سے خوش و غمزدہ ہوتا رہوں گا اور ہر لمحہ تم سے باخبر رہوں گا۔ پھر فرمایا : وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی اَلْاٰن. اس تیسرے جملے میں خوشخبری دی کہ ایک حوض، حوض کوثر ہے اور میں اس وقت اس حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ حوض، جنت میں ہے مگر اس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا اور یہ حقائق غیبیہ میں سے ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی سرزمین پر کھڑے ہوکر اسی لمحے اس حوض کوثر کا مشاہدہ بھی فرمارہے ہیں جو جنت میں ہے یا جو قیامت کے دن ظاہر ہونے والا ہے۔ گویا وہاں کھڑے ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت بھی دیکھ رہے ہیں اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن کا منظر بھی دیکھ رہے ہیں پھر فرمایا :

وَاِنِّيْ اُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِن الْاَرْض اَوْ مَفَاتِيْحَ الْاَرْضِ.

’’اور زمین کے سب خزانوں کی ساری چابیاں مجھے عطا کردی گئی ہیں‘‘۔

’’مَفَاتِيْح‘‘ جمع منتہی الجموع ہے اور ’’خزائن‘‘ بھی جمع ہے۔ ’’مفاتیح‘‘ اور ’’خزائن‘‘ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ ہیں، جب مضاف و مضاف الیہ دونوں جمع ہوں نیز مضاف جمع منتہی الجموع ہو یعنی جمع کی اضافت جمع پر ہو تو یہ استغراق کلی کا فائدہ دیتا ہے، کلیت پر دلالت کرتا ہے۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتا رہے ہیں کہ جتنی قِسموں کے خزانے ہیں اور ان کی جتنی چابیاں ہیں، رب نے مجھے عطا کردی ہیں۔ گویا خزانوں کے مالک بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور چابیوں کے مالک بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا :

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ.

’’اور غیب کی کنجیاں (یعنی وہ راستے جس سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اس کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں‘‘۔

الانعام، 6 : 59

غیروں کے لئے تالا ہوتا ہے اور اپنوں کے لئے چابیاں ہوتی ہیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی امت کے لئے اشارہ فرمادیا کہ زمین کے کل خزانوں کی کل چابیاں مجھے دی ہیں۔ اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ ’’تم میرے قدموں سے جڑ جاؤ، جس کو طلب ہوگی، صدق کا تعلق ہوگا اس کو خزانوں سے بھردوں گا‘‘۔

مَفَاتِيْحَ الْاَرْض میں مستقبل میں فتوحات اسلام کی طرف بھی اشارہ ہے نیز اس سے عرب کی سرزمین سے نکلنے والے تیل کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یہ بات بغیر دلیل کے نہیں ہے، امام حجر عسقلانی بھی اس بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں سرزمین عرب کے تیل و معدنیات کی طرف اشارہ ہے۔ تو پھر جو کچھ زمین سے نکلا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 1400 سال قبل بیان فرما دیا اور اب جس جس وقت میں جو کچھ بھی ظاہر ہوگا اور جو جو اس سے بہرہ مند ہو گا اور نفع اٹھائے گا وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا صدقہ ہو گا۔ مانے یا نہ مانے یہ الگ بات ہے مگر ہر کوئی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا صدقہ ہی کھائے گا۔

سوادِ اعظم پر شرک کے فتوے لگانے والوں کیلئے مقام غور !

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کی زیارت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آخری حصے میں فرمایا :

وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِی.

’’خدا کی قسم! مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے‘‘۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مشرک قرار دینے والے غور کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شرک کا اتہام تہمت لگانے والوں کیلئے مقام غور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی کہ مجھے اس بات کا خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے۔

وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا.

’’بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا طلبی اور دنیا کی اغراض میں پھنس جاؤ گے‘‘ دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا کہ دنیا کی وجہ سے ہلاکت میں چلے جاؤ گے‘‘۔

یہاں ایک جزئیہ سمجھنے والا ہے۔ بعض احباب یہ کہہ سکتے ہیں کہ شرک کے خوف کا نہ ہونا یہ صرف صحابہ کرام کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرک سے مستثنیٰ اور مبراء تھے۔ اور ہمیں مبراء نہیں کیا کہ امت شرک میں مبتلا نہ ہوگی۔ ایک لمحہ کے لئے اس سوال کو اگر قبول کر لیا جائے تو اب اس کا جواب یہ ہے۔ ’’ولکن‘‘ (لیکن) کے آنے کی وجہ سے جملے کے دونوں اجزاء ایک ہی جملہ ہوں گے۔ مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ یہ خوف ہے کہ تم دنیا پرستی کرو گے۔ اس جملے کو صرف صحابہ کے دور تک محدود کرنے والے غور کریں کہ اگر صحابہ کے ساتھ شرک کے خوف کا نہ ہونا خاص کرنا ہے تو صرف شرک کے خوف کا نہ ہونا ہی صحابہ کے ساتھ خاص نہ ہوگا بلکہ پھر دنیا پرستی کا الزام بھی ان کے ساتھ خاص ہوگا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو باتیں کہیں۔

  1. عدم شرک
  2. دنیا پرستی

اب یہاں دو امکان ہیں کہ یہ بات یا تو جمیع امت کے لئے فرمائی ہے یا صرف صحابہ کرام کے لئے ہے۔ اگر جمیع امت کے لئے ہے تب بھی دونوں جزء ہیں، کامل جملہ منسوب کیا جائے گا۔ اور اگر صرف صحابہ کے لئے ہے تب بھی دونوں جزء، کامل جملہ منسوب کیا جائے گا۔ کیونکہ ’’ولکن‘‘ ’’لیکن‘‘ کے بغیر جملہ مکمل نہیں ہوگا۔ پس حدیث مبارکہ میں موجود شرک کے خوف کا نہ ہونا صرف صحابہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جمیع امت کے لئے ہے۔ پس معنی یہ ہوگا کہ اے میری امت مجھے تمہارے بارے شرک کا خوف تو نہیں مگر یہ خوف ہے کہ دنیا کی اغراض میں پھنس جاؤ گے۔ میں نے شرک کو جڑوں سے کاٹ کر اتنا ختم کردیا ہے کہ قیامت کے دن تک میری امت من حیث المجموع اب مشرک کبھی نہیں بنے گی۔ اور اگر خطرہ ہے تو صرف یہ کہ امت دنیا پرستی میں مبتلا ہوگی۔ آج ہم دنیا پرستی میں مبتلا ہیں۔ تو پھر جزء اول بھی حق ہوا اور جزء ثانی بھی حق ہوا۔ جب جزء ثانی امت کے بارے میں حق ہے کہ واقعتاً امت دنیا پرستی میں مبتلا ہے تو جزء اول بھی حق ہے کہ امت شرک میں مبتلا نہ ہوگی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جزء لے لیا جائے اور ایک جزء چھوڑ دیا جائے۔

آج امت دنیا پرستی کا شکار ہے اور اسی کے باعث ذلت و رسوائی کا عذاب بھگت رہی ہے مگر بطور مجموعی امت مشرک نہیں ہوگی اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضمانت دے دی۔ لہٰذا اب امت کے سواد اعظم کو مشرک کہنا یا ان کے عقیدہ کو شرک تصور کرنا یہ سواد اعظم پر اعتراض نہیں بلکہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کو معاذ اللہ رد کرنا ہے۔

آپ لوگوں کو مبارک ہوکہ شرک کی تہمت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سب سے دفع فرمادیا۔ لہٰذا امت کو مشرک قرار دینے سے احتیاط کرنی چاہئے۔

اہل ایمان کے مزارات پر پھول چڑھانا اور چراغاں کرنا

فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ہر چیز اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے :

وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًاo

’’کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بے شک وہ بڑا بردبار بڑا بخشنے والا ہے‘‘۔

بنی اسرائیل 17 : 44

معلوم ہوا کہ کائنات کی ہر چیز اپنی زبان اور حال کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی پاکی بولتی ہے ہاں مگر ہر چیز کی تسبیح کو ہر ایک نہیں سمجھتا۔ اہل ایمان کی قبروں پر جو سبزہ گھاس وغیرہ ہے وہ بھی اﷲ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے اور اس کا ثواب قبر والے کو پہنچتا ہے نیک ہے تو اس کے درجات بلند کیے جاتے ہیں گناہگار ہے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے اور عذاب میں تخفیف کا باعث ہے۔ قبروں اور مزارات پر لوگ پھول چڑھاتے ہیں اس کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ سبزہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر و تہلیل کرے گا اور اہل قبور کو اس کا ثواب ملتا رہے گا جب تک ہرا ہے۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِیرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اﷲِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.

’’حضرت ابن عباس ضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ فرمایا کہ ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے۔ پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ شاید ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ سوکھ نہ جائیں‘‘۔

بخاری، الصحیح، 1 : 458، رقم : 1295

شرح حدیث

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :

أن المعنی فيه أنه يسبح مادام رطبا فيحصل التخفيف ببرکة التسبيح وعلی هذا فيطرد في کل ما فيه رطوبة من الأشجار وغيرها وکذلک فيما فيه برکة کالذکر وتلاوة القرآن من باب الأولی.

’’مطلب یہ کہ جب تک ٹہنیاں (پھول، پتیاں، گھاس) سر سبز رہیں گی، ان کی تسبیح کی برکت سے عذاب میں کمی ہوگی بنابریں درخت وغیرہ جس جس چیز میں تری ہے (گھاس، پھول وغیرہ) یونہی بابرکت چیز جیسے ذکر، تلاوت قرآن کریم، بطریق اولیٰ باعث برکت و تخفیف ہیں، وھو اولی ان ینتفع من غیرہ اس حدیث پاک کا زیادہ حق ہے کہ بجائے کسی اور کے اس کی پیروی کی جائے‘‘۔

عسقلانی، فتح الباری، 1 : 320، دار المعرفۃ بیروت

دیو بندی عالم شیخ انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :

في ((الدر المختار)) اِنَّ اِنباتَ الشجرةِ مُسْتَحبٌّ ۔ ۔ ۔ وفي ((العالمگیریۃ)) أنَّ اِلقاءَ الرياحين أيضًا مُفِيْد.

’’در مختار میں ہے قبر پر درخت لگانا مستحب ہے۔۔۔ اور فتاوی عالمگیری میں قبر پر پھول چڑھانا، ڈالنا بھی ہے‘‘۔

انور شاہ کشمیری، فیض الباری شرح صحیح بخاری، 3 : 72، دار الکتب العلمیۃ بیروت۔ لبنان

دیوبندی عالم شیخ رشید احمد گنگوھی کا مؤقف درج زیل ہے :

ابن عابدین (شامی) نے فرمایا ہری جڑی بوٹیاں اور گھاس قبر سے کاٹنا مکروہ ہے خشک جائز ہے جیسا کہ البحر و الدرر اور شرح المنیہ میں ہے۔ الامداد میں اسکی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جب تک گھاس، پھول، پتے، ٹہنی سر سبز رہیں گے۔ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے اس سے میت مانوس ہوگا اور رحمت نازل ہوگی۔ اس کی دلیل وہ حدیث پاک ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر سبز ٹہنی لے کر اس کے دو ٹکڑے کیے اور جن دو قبروں کو عذاب ہو رہا تھا ایک ایک ٹہنی ان پر رکھ دی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ جب تک یہ خشک نہ ہونگی ان کی تسبیح کی برکت سے ان کے عذاب میں کمی رہے گی کیونکہ خشک کی تسبیح سے زیادہ کامل سرسبز کی تسبیح ہوتی ہے کہ ہری ٹہنی کی ایک خاص قسم کی زندگی ہے۔ اس ارشاد پاک کی پیروی کرتے ہوئے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ قبروں پر پھول، گھاس، اور سر سبز ٹہنیاں رکھنا مستحب ہے۔ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے یہ جو ہمارے زمانہ میں قبروں پر تروتازہ خوشبودار پھول چڑھائے جاتے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ذکر کیا کہ حضرت بریدہ اسلمی رضی اﷲ عنہ نے اپنی قبر میں دو ٹہنیاں رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔

رشيد أحمد گنگوهی، لامع الدراری علی جامع البخاری، 4 : 380، المکتبة الإمدادية، باب العمرة. مکة المکرمة

ملا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اور امام طحاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا ہے :

أفتی بعض الأئمة من متأخري أصحابنا بأن ما اعتيد من وضع الريحان والجريد سنة لهذا الحديث.

’’ہمارے متاخرین ائمہ احناف نے فتوی دیا کہ قبروں پر جو پھول اور ٹہنیاں رکھنے کا دستور ہے اس حدیث پاک کی رو سے سنت ہے‘‘.

1۔ ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 2 : 53، دار الکتب العلمیۃ لبنان۔ بیروت

2۔ طحاوی، حاشیۃ علی مراقي الفلاح، 1 : 415، المطبۃ الکبری الامیریۃ ببولاق مصر

امام طحاوی مذکورہ عبارت کے ساتھ مزید اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وإذا کان يرجی التخفيف عن الميت بتسبيح الجريدة فتلاوة القرآن أعظم برکة.

’’اورجب ٹہنیوں کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف کی امید ہے تو تلاوت قرآن کی برکت تو اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے‘‘۔

ایضاً

امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :

وذهب المحققون من المفسرين وغير هم إلی أنه علی عمومه... استحب العلماء قرأة القرآن عند القبر لهذا الحديث لأنه إذا کان يرجی التخفيف يتسبيح الجريد فبتلاوة القرآن أولی.

’’محققین، مفسرین اور دیگر ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ حدیث پاک عام ہے۔ ۔ ۔ علماء نے اس حدیث پاک کی روشنی میں قبر کے پاس تلاوت قرآن کو مستحب کہا ہے اس لیے کہ جب ٹہنی کی تسبیح سے تخفیف کی امید ہوسکتی ہے تو تلاوت قرآن سے بطریق اولیٰ امید کی جا سکتی ہے‘‘۔

نووی، شرح صحیح مسلم، 3 : 202، دار اِحیاء التراث العربي بیروت

فقہائے کرام

وضع الورود و الرياحين علی القبور حسن وإن تصدق بقيمة الورد کان أحسن.

گلاب کے یا دوسرے پھول قبروں پر رکھنا اچھا ہے اور ان پھولوں کی قیمت صدقہ کرنا زیادہ اچھا ہے‘‘۔

الشیخ نظام وجماعۃ من علماء الھند، الفتاوی الہندیۃ، 5 : 351، دار الفکر

یہ حقیقت تو بے غبار ہوگئی اور حق بات روشن ہوگئی کہ مسلمانوں کی قبروں پر پھول رکھنا، پتے، ٹہنیاں اور گھاس اگانا، رکھنا مسنون ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل ہے اور اس کی جو وجہ بتائی کہ صاحب قبر کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور یہ عمل عام ہے قیامت تک اس کو نسخ نہیں کیا جا سکتا، کوئی کلمہ گو اس کا انکار نہیں کر سکتا اور مزید کسی کی تائید کی ضرورت نہیں تاہم، ہم نے تبرعاً اکابر ائمہ اہل سنت کے اقوال پیش کر دئیے ہیں۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے یا نہ سمجھنا چاہے تو اس کو اﷲ ہی سمجھائے۔ اہل ایمان کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کا یہ عمل سنت نبوی ہے۔

زائرین حضرات کی فوری توجہ کے لیے

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم انتہاء پسند ہیں اعتدال و توازن جو اسلامی احکام و تعلیمات کا طرہ امتیاز ہے ہمارے ہاں مفقود ہے۔ ایک انتہا تو یہ ہے کہ سنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا سوچے سمجھے آنکھیں بند کرکے بدعت اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر حرام کہدیا جو سراسر زیادتی اور احکام شرع کی خلاف ورزی ہے دوسری طرف جائز و مستحسن بلکہ سنت سمجھنے والوں نے اس سنت کے ساتھ اتنی بدعات جو ڑ دیں کہ الامان و الحفیظ۔

موم بتیاں اور چراغ روشن کرنا

ان کی اصل صرف یہ ہے کہ زائرین کسی وجہ سے دن کو زیارت قبور کے لیے نہیں آ سکتے رات کو وقت ملتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں قبرستان تک پہنچنے کے لیے اور صاحب مزار تک آرام سے پہنچنے کے لیے اور زائرین کی سہولت کے لیے رات کے وقت موم بتی یا چراغ وغیرہ کے ذریعہ روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا تاکہ رات کو آنے جانے والوں، تدفین کرنے والوں اور زائرین کو تکلیف نہ ہو اور وہ روشنی میں بآسانی آ جا سکیں یہ چراغاں عام راستوں میں قبرستانوں اور مساجد وغیرہ میں ہوتا تھا اور آج بھی بوقت ضرورت ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے اور اس کے جواز بلکہ استحباب میں کوئی شبہ نہیں۔

علامہ امام شیخ عبد القادر الرافعی الفاروقی الحنفی تقریرات الرافعی علی حاشےۃ ابن عابدین میں لکھتے ہیں :

إن البدعة الحسنة الموافقة لمقصود الشرع تسمی سنة فبناء القباب علی قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب علی قبورهم أمر جائز إذا کان القصد بذلک التعظيم فی أعين العامة حتی لا يحتقروا صاحب هذا القبر وکذا ايقاد القناديل والشمع عند قبور الاولياء والصلحاء من باب التعظيم والا جلال ايضاً للأولياء فالمقصد فيها مقصد حسن ونذر الزيت والشمع للأولياء يوقد عند قبورهم تعظيما لهم ومحبة فيهم جائز ايضاً لا ينبغی النهی عنه.

’’اچھی بدعت (نئی بات) جو مقصود شرع کے موافق ہو سنت کہلاتی ہے پس علماء اور اولیاء اور صلحاء کی قبروں پر گنبد بنانا، ان کی قبروں پر پردے، عمامے اور کپڑے ڈالنا جائز ہے جب کہ اس سے مقصد لوگوں کی نظروں میں ان کی عظمت کا اظہار کرنا ہوتا کہ وہ صاحب قبر کو حقیر نہ سمجھیں یونہی اولیاء و صلحاء کی قبر کے پاس قندیلیں اور شمعیں روشن کرنا تعظیم و اجلال کی بنا پر ہے سو اس میں ارادہ اچھا ہے۔ زیتون کے تیل اور موم بتیاں اولیاء اﷲ کی قبروں کے پاس روشن کی جاتی ہیں یہ بھی ان کی تعظیم و محبت ہے لہٰذا جائز ہے اس سے روکنا نہیں چاہیے‘‘۔

عبدالقادرالرافعی، تقریرات الرافعی علی حاشیہ ابن عابدین، 2 : 123

علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں :

بعض الفقهاء وضع الستور و العمائم و الثياب علی قبور الصالحين و الأولياء وقال في فتاوی الحجة و تکره الستور علی قبور.

ولکن نحن نقول الآن إذا قصد به التعظيم في عيون العامة حتی لا يحتقروا صاحب القبر ولجلب الخشوع والأدب للغافلين الزائرين فهوجائز لأن الأعمال بالنيات وإن کان بدعة.

’’بعض فقہاء نے صالحین و اولیاء کی قبروں پر غلاف اور کپڑے رکھنے کو مکروہ کہا ہے فتاویٰ الحجۃ میں کہاقبروں پر غلاف چڑھانا مکروہ ہے۔

لیکن اب ہم کہتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظروں میں تعظیم و تکریم مقصود ہے تاکہ وہ قبر والے کو حقیر نہ سمجھیں اور تاکہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور غافل زائرین میں ادب پیدا ہو تو یہ امور جائز ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اگرچہ نئی چیز ہے‘‘۔

ابن عابدین شامي، ردالمحتار، 6 : 363، دار الفکر بیروت

خلاصۂ کلام

مسلمان کی قبر پر پھول چڑھانا بھی مسنون ہے اور زائرین کی سہولت کے لیے رات کو چراغ جلانا یا روشنی کرنا بھی کار خیر ہے اس سے لوگوں کو آرام اور صاحب قبر کی عزت و عظمت کا اظہار ہوتا ہے یونہی غلاف چڑھانا بھی مزارات و صاحبان مزارات کی تعظیم و تکریم کا اظہار کرنا ہے مگر آج کل بعض مزارات و مقابر پر جو جہالت، فضول خرچی، گمراہی اور ماحول کی پرا گندگی و تعفن پیدا کیا جاتا ہے وہ سراسر فضول، اسراف اور جہالت و گمراہی ہے۔

چراغاں

آپ موم بتی یا تیل کا چراغ اس نیت سے رکھیں کہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں روشنی کا اہتمام کر کے عام ضرورت پوری کی جائے، اچھا ہے، اس کے ساتھ ایمرجنسی لائیٹ کا متبادل بھی آ گیا ہے۔ چراغوں اور موم بتیوں کی جگہ اسے استعمال کریں ان سے نہ دھواں، نہ گندگی اور نہ ہی بدبو پیدا ہوتی ہے آج کل مختلف مزارات پر حد سے زیادہ ہونے والا چراغاں جہالت، حماقت اور فضول خرچی ہے بجلی کی ٹیوبوں اور قمقموں کی دلفریب حسین روشنی کے ہوتے ہوئے بھی حد سے زیادہ چراغ جلانا، موم بتیاں روشن کرنا اور ان موم بتیوں کو آگ کے الاؤ میں ڈالنا، پگھلانا اور جلانا فضا کو زہر آلود کرتا ہے پورا ماحول گندا اور بدبودار ہوتا ہے لطافت و نظافت پسند شریف آدمی کو سانس لینا اور قدم رکھنا دشوار ہے ان پڑھ اور پڑھے لکھے جہلا خراج عقیدت پیش کر کے دین کی خدمت اور بزرگوں کی نیک نامی کو چار چاند لگا رہے ہیں یہ سب ولایت و تصوف کے نام پر ہو رہا ہے علماء و مشائخ دیکھ رہے ہیں سیاستدان اور حکمران دیکھ رہے ہیں صحافی اور دانشور تماشا دیکھ رہے ہیں اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بلا ضرورت یہ موم بتیوں کا الاؤ اور چراغوں کا جلانا کونسی نیکی ہے؟ یہ سب قومی دولت کا ضیاع ہے شیطانی فضول خرچی ہے روحانی اور ستھرے ماحول کو زہریلے دھوؤں سے زہر آلود کرنا ہے پاؤں رکھو تو تیل اور موم، نہ بیٹھنا ممکن نہ چلنا، نہ سانس لینا، گرمی، بدبو، دھوئیں کی گندگی اور وہ بھی کہاں؟ داتا گنج بخش رحمۃاﷲ علیہ کے مزار اور مسجد میں، مادھولال حسین کے مزار اور مسجد میں یہاں سے زائرین تربیت لے کر اپنے علاقوں میں گندگی پھیلاتے ہیں۔

اے مسلمان بھائیو ! ان بیہودگیوں سے توبہ کرو مزارات و مساجد کی عزت و عظمت کو پامال نہ کرو فضول خرچیوں اور بد تمیزیوں سے شیطان کے بھائی نہ بنو ان مقدس مقامات کی بے حرمتی نہ کرو اولیاء اﷲ کے آستانوں کو گندگی کے ڈھیروں میں مت بدلو! دنیا کی نظروں میں اسلام اور تصوف کو بدنام نہ کرو۔ آج دنیا کی کوئی قوم کسی سے دور نہیں رہی دنیا ہماری ان حماقتوں کو دیکھ رہی ہے۔

بند کرو ! آگ کے یہ الاؤ نہ بدنام کرو ان اچھے ناموں اور خوبصورت آستانوں کو۔ ۔ صاف کردو اﷲ کے گھروں کو، رکوع، سجود اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے۔ ۔ بحال کردو ان کی عظمت رفتہ کو۔ ۔ منالو ! اپنے روٹھے خدا کو۔ ۔ خوش کردو اپنے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔ ۔ اپنی طرف مبذول کرلو تو جہات اولیاء کو۔

ختم کردو ! ان آستانوں سے جوا، نشہ، بے پردگی، بے ہودگی، بدمعاشی کو۔ ۔ مٹادو گندے دھوئیں، بدبو اور جملہ آلودگی کو۔ ۔ تاکہ تاریک دلوں کو جلا ملے، اندھی آنکھوں کو شرم و حیاء ملے، بیماردلوں کو دوا ملے، پورا ماحول رنگ و نور کے ماحول میں ڈوب جائے۔ ۔ بیقرار دلوں کو سکون اور پراگندہ طبیعتوں کو اطمینان و یقین کی دولت میسر ہو۔

بزرگوں کے ہاتھ اور ان کے مزارات کا بوسہ

عَنْ عُمَرَ رضی الله عنه أَنَّهُ جَاءَ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ.

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس تشریف لائے، پھر اسے بوسہ دیا، پھر فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے(اس حیثیت سے ) نہ نقصان دہ نہ فائدہ مند۔ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا نہ ہوتا، تجھے (کبھی) نہ چومتا‘‘۔

بخاری، الصحیح، 2 : 579، رقم : 1520

علامہ عینی نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیا ہے :

أما تقبيل الأماکن الشريفة علی قصد التبرک وکذلک تقبيل أيدي الصالحين وأرجلهم فهو حسن محمود باعتبار القصد والنيه وقد سأل أبو هريرة الحسن رضی اﷲ تعالی عنه أن يکشف له المکان الذي قبله رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وهو سرته فقبله تبرکا بآثاره وذريته صلی الله عليه وآله وسلم وقد کان ثابت البناني لايدع يد أنس رضی اﷲ تعالی عنه حتی يقبلها ويقول يد مست يد رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم. . . أن الامام أحمد سئل عن تقبيل قبر النبی صلی الله عليه وآله وسلم وتقبيل منبره فقال لا بأس بذلک قال فأريناه للشيخ تقی الدين بن تيمية فصار يتعجب من ذلک ويقول عجبت أحمد عندي جليل بقوله هذا کلامه أو معنی کلامه قال وأي عجب في ذلک وقد روينا عن الامام أحمد أنه غسل قميصا للشافعي وشرب الماء الذي غسله به واِذا کان هذا تعظيمه لأهل العلم فکيف بمقادير الصحابه وکيف بآثار الأنبياء عليهم الصلاة والسلام ولقد أحسن مجنون ليلی حيث يقول :

أمر علی الديار ديار ليلی

أقبل ذا الجدار وذا الجدارا

وما حب الديار شغفن قلبی

ولکن حبُّ من سکن الديارا

قال المحب الطبري يمکن أن يستنبط من تقبيل الحجر واستلام الأرکان جواز تقبيل ما في تقبيله تعظيم تعالی فانه ان لم يرد فيه خبر بالندب لم يرد بالکراهه.

’’حصول برکت کے ارادے سے مقامات مقدسہ کو چومنا، اسی طرح نیک لوگوں کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینا، نیت و ارادہ کے اعتبار سے اچھا اور قابل تعریف کام ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے امام حسن مجتبی رضی اﷲ عنہ سے عرض کی کہ وہ اپنی ناف سے کپڑا اٹھائیں جس کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بوسہ دیا تھا پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اولاد کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے لیے اسے بوسہ دیا۔ اور (امام) ثابت بنانی جب تک بوسہ نہ دیتے حضرت انس رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ نہ چھوڑتے اور فرمایا کرتے یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک کو چھوا ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور اور منبر اقدس کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ کہا کہ ہم نے یہ قول جب شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو دکھایا تو وہ اس پر تعجب کرنے لگے اور کہا مجھے تعجب ہے۔ میرے نزدیک تو امام احمد کی یہ بات یا اس سے ملتی جلتی بات عجیب سی لگتی ہے۔ (محب طبری نے ) کہا اس میں تعجب کس بات پر ؟ ہم نے تو امام احمد کی یہ بات سنی ہے کہ آپ نے امام شافعی کی قمیض دھو کر اس کا دھون پی لیا تھا تو جب وہ اہل علم کی اتنی تعظیم کرتے تھے تو پھر آثار صحابہ رضی اﷲ عنہ آثار انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام سے کتنی عزت و عظمت سے پیش آتے ہوں گے۔ لیلیٰ کے مجنوں (قیس عامری) نے کیا خوب کہا :

جب لیلیٰ کے شہر سے گزرتا ہوں

کبھی اس دیوار کو چومتا ہوں کبھی اس کو

مکانوں کی محبت نے میرا دل دیوانہ نہیں بنا رکھا

بلکہ ان میں بسنے والوں کی محبت نے یہ حال کر رکھا ہے

علامہ محب طبری نے فرمایا : یہ بھی ممکن ہے کہ حجر اسود اور ارکان کے بوسہ دینے سے ہر اس چیز کو چومنے کا مسئلہ نکالا جائے جس کے چومنے سے اﷲ تعالیٰ کی تعظیم ہے اگرچہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث اس عموم استحباب پر مروی تو نہیں مگر اس کی کراہت پر بھی تو کوئی روایت نہیں‘‘۔

علامہ عینی کہتے ہیں : ’’میں نے اپنے دادا محمد بن ابو بکر کے بعض حواشی میں امام ابو عبد اﷲ محمد بن ابی الصیف کے حوالہ سے لکھا دیکھا ہے کہ کچھ آئمہ دین قرآن کو دیکھتے تو اسے بوسہ دیتے جب اجزائے حدیث کو دیکھتے تو ان کو بوسہ دیتے اور جب نیک لوگوں کی قبروں پر نظر پڑتی تو ان کو بوسہ دیتے فرمایا یہ کچھ بعید نہیں ‘‘۔

عینی، عمدۃ القاری، 9 : 241

عن داؤد بن أبي صالح قال أقبل مروان يوما فوجد رجلا واضعا وجهه علی القبر فقال أ تدري ماتصنع فأقبل عليه فاذا هو أبو أيوب فقال نعم جئت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ولم آت الحجر سمعت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقول لا تبکوا علی الدين إذا وليه أهله ولکن ابکوا عليه إذا وليه غير أهله.

’’داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں ایک دن مروان آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے کہا جانتے ہو کیا کر رہے ہو؟ وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوئے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ تھے۔ فرمایا ہاں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب دین کے معاملات اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر مت روؤ۔ ہاں جب امور دین نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر روؤ ‘‘۔

أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422، الرقم : 23633، مؤسسة قرطبة مصر

مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوگیا ہے کہ عرس منانا، مزارات پر حاضری دینا، چادر چڑھانا اور مقامات مقدسہ کو بوسہ دینا جائز ہے۔

مزید وضاحت کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔

1۔ کتاب التوحید

2۔ زیارت قبور

3۔ کتاب البدعہ

4۔ عقیدہ توسل

5۔ ایصال ثواب کی شرعی حیثیت

6۔ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-01-30


Your Comments