Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کس زمین‌ پر زکوۃ لاگو ہو گی؟

کس زمین‌ پر زکوۃ لاگو ہو گی؟

موضوع: ایمانیات  |  زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد خالد       مقام: جدہ، سعودی عرب

سوال نمبر 2677:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں‌ نے گھر بنانے کے لیے جو پیسے رکھے ہیں کیا ان پر زکوۃ ہے؟ اگر میں نے کچھ پیسے سال ختم ہونے سے پہلے زکوۃ دی تو باقی سال ختم ہونے کے بعد تو کوئی حرج نہیں ہے؟ وہ زمین جس کے بارے میں مجھے پتا نہیں کہ بیچنی ہے یا رکھنی ہے کیا اس پر زکوۃ ہے؟

جواب:

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زکوۃ ادا کرنے کا وقت اور طریقہ کیا ہے؟ جو درج ذیل ہے :

مثلا ایک بندہ 22 شعبان العظم 1434ھ کو صاحب نصاب ہو جائے اور پورا سال 22 شعبان المعظم 1435ھ تک صاحب نصاب ہی رہے تو وہ زکوۃ ادا کرے گا۔ جس دن صاحب نصاب ہو اس دن سے سال مکمل ہونے پر سال کے آخر میں جتنی رقم یا مال، سونا، چاندی وغیرہ ہو گا اس پر زکوۃ ادا کرے گا خواہ سال کے درمیان وہ مال دولت کم یا زیادہ ہوتا رہا ہو لیکن وہ صاحب نصاب کی حد سے نیچے نہ گیا ہو تو سال کے آخر میں موجود مال ودولت سونا چاندی پر زکوۃ ادا کرے گا۔

یاد رکھیں کہ زکوۃ ادا کرنے کے لیے ہر بندے کا مختلف دن ہو سکتا ہے یعنی سال کے کسی بھی دن صاحب نصاب ہونے سے اس کا سال شروع ہو گا۔ سن ہجری کے اعتبار سے جس دن سال مکمل ہو گا زکوۃ ادا کرے گا۔

بہتر یہی ہے کہ سال مکمل ہوتے ہی حساب کتاب کر کے زکوۃ ادا کر دیں تاکہ بعد میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ مکان کے لیے رکھے ہوئے پیسے بھی مال زکوۃ میں شامل کیے جائیں گے۔ زمین پر زکوۃ نہیں ہوتی بلکہ اس سے پیدا ہونے والی فصل پر عشر ہوتا ہے۔ پلاٹ، مکان یا زرعی زمین بیچ دیے جائیں تو ان کی رقم پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے۔ لہذا جب آپ زمین بیچ دیں گے تو اس کی رقم مال زکوۃ میں شامل کریں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-07-20


Your Comments