Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - الکوحل سے ادویات بنانے اور اس میں محفوظ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الکوحل سے ادویات بنانے اور اس میں محفوظ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  حرام کھانے   |  حرام مشروبات   |  حرام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد معصموم صديقي۔ايم فل سكالر       مقام: ملتان، پاکستان

سوال نمبر 2669:
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسان کے اخراج یعنی خون، بلغم، پیپ، ہڈی، دانت، ٹی بی کے مریض کے پھیپھڑو ں کا بلغم،کینسر کے زخموں کی پیپ، انسانی پاخانہ، پاخانے کی چربی، تھوک، کان کا میل، ایڈز والے مریض کا خون، پیشاب، منی، وغیرہ کی ادویات بنانا اور ان کو الکحل میں محفوظ رکھنا اور فروخت کرنا چاہے انکی مقدار قلیل ہو یا کثیر اور دنیا میں متبادل طریقہ علاج بھی موجود ہو اس صو رت میں ان ادویات کا استعمال اور فروخت کے بارے میں شریعت اسلامی کا کیا حکم ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب ارشاد فرمائیں۔ بينوا توجروا۔

جواب:

آپ کے سوال سے یہ نہیں واضح ہو رہا ہے کہ ان بیماریوں کے لیے ادویات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں یا جو چیزیں آپ نے ذکر کی ہیں ان سے ادویات بنانے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟

اگر ان بیماریوں کے لیے الکوحل ملی ادویات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو اس کے لیے درج ذیل سوالات پر کلک کریں۔

  1. جس دوائی میں الکوحل شامل ہو اس کا استعمال کیسا ہے؟
  2. کیا الکوحل والی اشیاء استعمال کرنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-08-24


Your Comments