کیا مصارف مسجد پر زکوۃ کی رقم لگائی کی جا سکتی ہے؟

سوال نمبر:2667
السلام علیکم۔ ہمارے ہاں ڈنمارک میں ایک مسجد ہے، لوگ مسجد کے لئے جو ماہانہ چندہ ادا کرتے ہیں اس سے مصارف مسجد پورے نہیں ہوتے، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ ایسی صورت میں‌ مسجد پر زکوۃ کی رقم صرف کی جائے، کیا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد میں‌ بچے بھی زیر تعلیم ہیں اس لئے یہ مسجد نہیں مدرسہ کے حکم میں ہے لہذا زکوۃ لگ سکتی ہے جب کہ زیر تعلیم بچوں‌ کے والدین ماہانہ فیس بھی ادا کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی بچہ مستحق زکوۃ نہیں۔ از راہ کرام شرعی رائنمائی فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ شکریہ

  • سائل: محمد ندیم یونسمقام: اوڈنسے ڈنمارک
  • تاریخ اشاعت: 24 اگست 2013ء

زمرہ: روزہ  |  ایمانیات  |   مسجد کے احکام و آداب

جواب:

زکوۃ، عشر، فطرانہ، فدیہ اور کفارے کی رقم مسجد پر خرچ نہیں کر سکتے۔ بچوں کو پڑھانے والے استاد کی تنخواہ، رہائش اور غریب بچوں کی فیس اور قیام وطعام کے لیے زکوۃ کی رقم کے علاوہ مذکورہ بالا میں سے کوئی بھی رقم استعمال کر سکتے ہیں۔ لہذا مسجد پر زکوۃ کی رقم خرچ نہیں کر سکتے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟