کیا مطلقہ بوقت ضرورت سابق شوہر کا نام استعمال کر سکتی ہے؟

سوال نمبر:2643
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ سے متعلق کہ: بیوی طلاق کے بعد ضرورت کے تحت اپنے شوہر (جس نے طلاق دی ہے) کا نام استعمال کر سکتی ہے؟ اگر کوئی بیوی طلاق کے بعد بھی ایسا کرتی ہے تو ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

  • سائل: وسیم عبداللہ جان قادریمقام: میر پور، آزاد کشمیر
  • تاریخ اشاعت: 04 جولائی 2013ء

زمرہ: طلاق

جواب:

طلاق کے بعد عورت اپنے سابق شوہر کا نام بطور خاوند استعمال نہیں کر سکتی۔ بطور سابق شوہر استعمال کر سکتی ہے۔ طلاق چاہے رجعی، بائنہ یا مغلظہ ہو۔ اس کو خاوند نہیں کہہ سکتی۔ ہاں طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجوع کر لے یا پھر بائنہ جس کے بعد نکاح کر سکتا ہو، اگر طلاق بائنہ میں نکاح کر لے تو دوبارہ رشتہ بحال ہو جائے گا، ورنہ وہ اس کے لیے ایک اجنبی مرد کی طرح ہی ہوتا ہے، جیسے دوسرے مردوں کو خاوند نہیں کہہ سکتی، جب تک نکاح نہ ہو جائے۔ اسی طرح طلاق کے بعد شوہر کے نام کو بھی استعمال نہیں کر سکتی۔ اس کا یہی حکم ہے کہ جیسے بغیر نکاح کے کسی کو خاوند کہنا حرام ہے۔ اسی طرح طلاق دینے والے کو بھی خاوند نہیں کہہ سکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟