Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - سود سے توبہ پر سودی مال کے بارے میں‌ کیا حکم ہے؟

سود سے توبہ پر سودی مال کے بارے میں‌ کیا حکم ہے؟

موضوع: سود

سوال پوچھنے والے کا نام: عبداللہ وصی       مقام: کراچی

سوال نمبر 2620:
السلام علیکم و رحمتہ اللہ جناب عالی، میں نے کچھ سال پہلے بینک سے قرض لیا تھا تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار اور اس میں اپنے جمع کیے ہوئے پیسے ملا کر دو لاکھ بیس ہزار کا ایک پلاٹ خریدا تھا۔ اب میں‌سود سے توبہ کر چکا ہوں اور بینک کے پیسے بھی بھر چکا ہوں اور جتنے لئے تھے اس سے زیادہ سود کے ساتھ بھر چکا ہوں۔ لیکن کیا یہ پلاٹ توبہ کرنے کے بعد میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو پھر اسکا کیا کرنا چاہئے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کا حوالہ بھی دیجئے گا۔ جزاک اللہ خیرا

جواب:

آپ نے بینک کو جتنا سود دیا ہے اتنی رقم غریبوں مسکینوں میں صدقہ کر دیں، امید ہے اللہ تعالی معاف فرمائے گا۔ یہ پلاٹ جائز ہے۔ یہ باتیں تو آپ کو پہلے پوچھنی چاہیں تھیں جو اب پوچھ رہے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-07-04


Your Comments