Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بنک میں ملازمت کرنا حرام ہے؟

کیا بنک میں ملازمت کرنا حرام ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  سود   |  بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد حسن       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2572:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا بنک میں ملازمت کرنا حرام ہے؟

جواب:

اس سوال کا جواب پہلے گزر چکا ہے، جواب کے مطالعہ کے لیے درج ذیل عنوانات پر کلک کریں۔

  1. کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟
  2. کیا بینک میں کیشیر ،چوکیدار،خادم وغیرہ کی نوکری جائز ہے؟
  3. کیا بینک کی طرف سے ملنے والی تنخواہ حرام آمدنی میں شمار ہوتی ہے؟
  4. کیا سودی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2013-05-08


Your Comments